نارتھ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات‘ رپورٹ پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260120-02-14
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ / آئینی بینچ میںنارتھ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف درخواست کی سماعت ،عدالت نے ایک ہفتے میں مذکورہ عمارت کے معائنہ کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔سندھ ہائیکورٹ میں نارتھ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جہاں غیر قانونی تعمیرات نا روکنے پر عدالت نے ایس بی سی اے حکام پر اظہار برہمی کیا عدالت نے ایک ہفتے میں مذکورہ عمارت کے معائنہ کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ اگر کوئی غیر قانونی تعمیرات ہوں تو ایک ہفتے میں ختم کرائی جائے،ایس بی سی اے حکام کے پاس اپنا کوئی دماغ نہیں ہے ؟ ایس بی سی اے کے پاس غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کوئی قوانین موجود نہیں ہیں کیا ؟ اگر کسی کو تعمیرات کی اجازت دیتے تو کیا اسکو چیک کرتے رہنے کوئی طریقہ کار ہے ؟ کوئی اگر غیر قانونی تعمیرات کررہا ہے تو روک تھام کیوں نہیں کرتے ،غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کو معطل کردیں گے ،درخواست گزار کاکہنا تھا کہ پلاٹ نمبر سی 37 سیکٹر 16 بی نارتھ کراچی پر غیر قانونی کی جارہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غیر قانونی تعمیرات
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔