کرن جوہر، سلمان خان کی وینٹی وین میں کیوں رو پڑے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
بالی ووڈ کے معروف ہدایت کار کرن جوہر نے انکشاف کیا کہ ہے نامور اداکار سلمان خان کے ایک فیصلے نے فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کے سیٹ پر انہیں رُلا دیا تھا۔
بھارت کے نامور ہدایت کار ومیزبان کرن جوہر’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ اور ’کبھی خوشی کبھی غم جیسی‘ ہٹ فلموں کے لیے جانے جاتے ہیں جب کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں متعدد بلاک بسٹر فلمیں بالی ووڈ کو دی ہیں، تاہم ان کی کچھ فلمیں فلاپ بھی ثابت ہوئی ہیں۔
حال ہی میں انہوں نے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کے مشہور گانے ’ساجن جی گھر آئے‘ کی شوٹنگ کے دوران وہ سلمان خان کی وینٹی وین میں رو پڑے تھے۔
فلم ساز اور پروڈیوسر ہونے کے ساتھ ساتھ کرن جوہر ایک معروف ملبوسات برانڈ کے لیے پوڈکاسٹ کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔
اپنے پوڈکاسٹ کے تازہ ترین ایپی سوڈ میں کرن جوہر نے نیتی موہن، شکتی موہن اور مکتی موہن کو مدعو کیا، جہاں بالی ووڈ کی بہترین شادی کی سنگیت کی تیاری پر گفتگو ہوئی۔
اسی گفتگو کے دوران کرن جوہر ماضی میں چلے گئے اور اپنی ابتدائی فلم میں شادی کے گانے ’ساجن جی گھر آئے‘ کی شوٹنگ کا قصہ سنایا۔
انہوں نے بتایا کہ ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ میں ان کی سلمان خان کے ساتھ یہ پہلی فلم تھی اور چونکہ سلمان ایک بہت بڑے اسٹار تھے، اس لیے وہ کافی گھبرائے ہوئے تھے۔
سلمان کے سیٹ پر پہلے دن جب کرن جوہر ان کی وینٹی وین میں داخل ہوئے تو سلمان خان ٹی شرٹ اور جینز پہنے ہوئے تھے۔
کرن نے دبنگ اداکار کو بتایا کہ وہ یہ گانا ایک بہت بڑے اور شاندار سیٹ پر شوٹ کرنے والے ہیں۔ ۔
اس پر سلمان خان نے بڑے آرام سے جواب دیا کہ ’ہاں، لیکن اگر پہلی بار دولہا جینز اور ٹی شرٹ میں آئے تو یہ ایک نیا اسٹائل ہوگا، میں اس میں سوَیگ لے آؤں گا‘۔
یہ سن کر کرن جوہر پریشان ہو گئے کیونکہ سیٹ بہت شاندار تھا اور سلمان خان کی ہیروئن کاجول ایک لہنگا پہنے ہوئے تھیں، ایسے میں دلہا جینز اور ٹی شرٹ میں آ گئے تو کیا ہوگا۔
جہاں سلمان خان پُراعتماد تھے، وہیں کرن جوہر شدید دباؤ میں آ گئے اور وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور سلمان خان کے سامنے ہی ان کی وینٹی وین میں رو پڑے۔
انہیں روتا دیکھ کر سلمان خان نے اپنی ضد چھوڑی اور سوٹ پہن کر شوٹنگ پر آنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ان کی وینٹی وین میں کرن جوہر
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔