data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (پ ر ) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے سابق سینئر نائب صدر، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد) کے سابق چیئرمین اور یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) سدرن زون کے سیکرٹری جنرل حنیف گوہر نے ملکی معیشت کے حوالے سے یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر کے موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایم تنویر کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے صنعتکاروں کا اعتماد بحال کیا جائے۔ حنیف گوہر نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو وقتی سہاروں کے بجائے مستقل بنیادوں پر مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے، محض نمائشی اقدام سے ترقی کا تاثر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چوکوں اور چوراہوں پر رنگ برنگی روشنیاں لگانا ترقی کی علامت نہیں بلکہ حقیقی ترقی صنعتوں کی بقا، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور برآمدات کے فروغ سے مشروط ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اس وقت ملکی معیشت عملی طور پر وینٹی لیٹر پر ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے فوری طور پر وینٹی لیٹر سے نکال کر پائیدار اور حقیقی ترقی کی راہ پر ڈالا جائے۔ جب تک صنعتی شعبے کو درپیش بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاتے، اس وقت تک معاشی استحکام محض ایک خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں صنعتوں کو سب سے بڑا مسئلہ مہنگی بجلی اور گیس کی صورت میں درپیش ہے، جس کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی صنعتیں عالمی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت کھوتی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتی ہے تو اسے صنعتوں کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔حنیف گوہر نے کہا کہ صنعتی شعبے کیلیے پالیسیوں میں تسلسل، ٹیکس نظام میں آسانی اور کاروباری ماحول کو دوستانہ بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک صنعت کار کو سہولتیں فراہم نہیں کی جاتیں، اس وقت تک نہ نئی سرمایہ کاری آئے گی اور نہ ہی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔ سابق نائب صدر ایف پی پی سی آئی کا کہنا تھا کہ برآمدات کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں برآمدکنندگان کو مختلف محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صنعتی و برآمدی شعبے کے ساتھ مشاورت کے ذریعے عملی اور دیرپا پالیسیاں تشکیل دے۔ آخر میں حنیف گوہر نے کہا کہ اگر صنعتیں چلیں گی تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ٹیکس ریونیو بڑھے گا اور ملکی معیشت حقیقی معنوں میں ترقی کرے گی، بصورت دیگر نمائشی اقدام سے مسائل مزید گھمبیر ہوتے جائیں گے۔

خبر ایجنسی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حنیف گوہر نے ملکی معیشت کی معیشت انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ

راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی  نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔

علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔

علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔   بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا 

اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔

مزید پڑھیں

اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات

190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے

علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا

انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا