گھر کا سرچ وارنٹ لیں‘ گرفتار کرکے پیش کریں،ایمان مزاری‘ ہادی علی کی عدم گرفتاری پر عدالت برہم
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف متنازع ٹوئٹ کیس کی سماعت ہوئی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس کی سماعت کی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی کو گرفتار نہ کیا جاسکا جبکہ عدالت نے ملزمان کی عدم گرفتاری پر اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دیے کہ آپ مجسٹریٹ سے گھر کا سرچ وارنٹ لیں، آج ملزمان کو گرفتار کرکے 11 بجے تک عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے کیس کی سماعت میں 11 بجے تک وقفہ کردیا، وقفے کے بعد این سی سی ائی اے حکام، پولیس حکام، اسپیشل پراسیکیوٹرز عدالت میں پیش ہوئے، این سی سی آئی اے، پولیس کی جانب سے تاحال ملزمان کے وارنٹ کی تعمیل نہ ہو سکی۔ این سی سی آئی اے، پولیس کی جانب سے رپورٹ جمع کروانے کے لیے وقت مانگ لیاگیا۔ جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے جس کی رپورٹ غیر تسلی بخش ہوگی اس کے خلاف کاروائی ہوگی، 2 بجے تک این سی سی آئی اے، پولیس وارنٹ سے متعلق رپورٹ جمع کروائے۔ ایمان مزاری، ہادی علی کیخلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت میں دو بجے تک وقفہ کردیا گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ایک روز کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے آج(منگل) تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔ جسٹس اعظم خان نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست پر سماعت کی، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ دو مرتبہ ضمانت کینسل ہوئی ہے اور اب ان کو گرفتار کرنے کا حکم بھی دیا جا چکا ہے، وکیل سے کوئی زیادتی ہو بھی جائے تو جج کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔ کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ میں جج صاحب ہر 15 منٹ بعد کیس چلا رہے ہیں، ایمان مزاری ایک خاتون ہیں انکی طبیعت ناساز ہے، اللہ تعالیٰ کے بعد ججز کا ایک اہم مرتبہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت بجے تک
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔