ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی حفاظتی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے انسانی حقوق کےلیے سرگرم وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے دونوں کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ہادی علی چٹھہ کو ایک دن کی ضمانت دیتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو ان کی گرفتاری سے روک دیا ہے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ نے اپیل کنندگان کی طرف سے دلائل دیے، جس کے بعد جاری کردہ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی کو کل صبح جسٹس اعظم خان کی عدالت میں پیش ہونا ہے، اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
بعد ازاں سیشن کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی کےخلاف متنازع ٹویٹ کیس پر سماعت ہوئی جہاں ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کی۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ’ملزمان کو ہائیکورٹ میں حفاظتی ضمانت ملی ہے اور کل پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ کل ہائیکورٹ میں پیش ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر میری عدالت میں پیش ہوں۔
اس پر معاون وکیل کی جانب سے سماعت پرسوں تک ملتوی کرنے کہ استدعا کی گئی تاہم جج افضل مجوکہ نے کہا کہ آپ نے ناجائز فائدہ اٹھایاہے، اب کوئی رعایت نہیں ہے، ملزمان یہیں پیش ہوں گے اور یہیں 342 کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایمان مزاری اور ہادی علی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔