امارات میں 3 ہزار 523 پاکستانی قید ہیں‘تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260120-08-29
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں قید پاکستانیوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں، وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں اس وقت 3 ہزار 523 پاکستانی شہری قید ہیں۔ وزارت خارجہ نے رکن قومی اسمبلی کے سوال کے جواب میں ایوان میں تحریراً تفصیلات پیش کردیں۔ وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں کل قید پاکستانیوں میں سے 1050 پاکستانی شہری ابو ظہبی کی مختلف جیلوں اور بحالی مراکز میں قید ہیں، نومبر 2025ء تک 769 پاکستانی قیدیوں کو قانونی معاونت فراہم کی گئی ہے۔ تحریری جواب میں وزارت خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستانی قیدیوں کے لیے معافی کی درخواستیں باقاعدگی سے میزبان حکومت کو ارسال کی جاتی ہے ، سال 2025ء کے دوران ابو ظہبی حکومت کو 350 معافی کی درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امارات میں
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔