نظام کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوتا‘ لڑنے والوں کو لڑنے دیا کریں‘ جسٹس محسن اختر کیانی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد کے لیبر افسر کی تعیناتی کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اپنی ہی دائر درخواست پر لاعلمی پر جسٹس محسن اختر کیانی درخواست گزار پر اظہار برہمی کیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کس کے کہنے پر درخواست دائر کی ہے؟ اس کو جانتے ہو جس کے خلاف درخواست دائر کی؟۔ درخواست گزار کے وکیل نے بولنے کی کوشش کی جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل کو خاموش رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ آپ سے درخواست کر رہا ہوں مجھے درخواست گزار سے سوال کرنے دے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار سے ایک مرتبہ پھر سوال کیا کہ کس کے کہنے پر درخواست دی ہے،درخواست گزار نے جواب دیا کہ میں نے خود درخواست دائر کی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جس کے خلاف درخواست دائر کی ہے وہ کس عہدے پر ہے یہ ہی تمہیں معلوم نہیں، گردن ہلاؤ گے، یا جیل بھیج دوں، شرم نہیں آئی، کتنے پیسے لیے ہیں؟، جس کے کہنے پر درخواست دی اس کا نام یا محکمہ بتا دیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عدالت میں جھوٹ بولنے کا مطلب سمجھ آتا ہے؟، تمہیں ڈیرہ اسماعیل خان میں مسیج آیا اور درخواست فائل کردی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے نائب کوٹ کو درخواست گزار کو عدالت میں بٹھانے کی ہدایت کردی، تمام کیسز ختم ہونے کے بعد درخواست گزار کے وکیل روسٹرم پر آگئے اور درخواست گزار کو جانے کی اجازت دینے کی استدعا کردی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ تو فری ہیں آزاد شہری ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سر کوورنٹو کی درخواست کی وجہ سے میں بھی مسنگ ہوا ہوں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بڑی بڑی کووارنٹو کے لیے بڑے لوگ مسنگ ہوئے ہیں، نظام کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوتا، ایک مرتبہ ایک آدمی نے پی ایچ ڈی پروفیسر کی تعیناتی چیلنج کی تھی، درخواست گزار پانچویں پاس بھی نہیں تھا، جن کی لڑائی ہوتی ہے ان کو لڑنے دیا کریں۔ عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست دائر کی درخواست گزار کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔