نادرا حکام کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260120-02-15
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میںنادرا حکام کا عدالت کے حکم پر عملدرآمد نا کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ،سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے درخواست پر نوٹس جاری کردئیے گئے۔سندھ ہائیکورت میں نادرا حکام کا عدالت کے حکم پر عملدرآمد نا کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی جہاں دو ہفتوں کے بعد آئندہ سماعت پر فریقین سے جواب طلب کرلیا گیا درخواست گزار کے و کیل عثمان فاروق ایڈوکیٹ کاکہنا تھا کہ عدالتی حکم نامہ دکھانے کے باوجود بھی عمل درآمد نہیں کیا جارہا،بار بار نادرا دفتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں، شناختی کارڈ کے اجراء کے لئیے جب گئے تو نادرا حکام نے گالم گلوج کی، اسلحہ کے بٹ بھی مارے گئے،درخواست گزار کی استدعا پر سندھ ہائیکورٹ نے گزشتہ سال جون میں حکم جاری کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نادرا حکام
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔