اوورسیز پاکستانیوں کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پالیسی، کیا اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وفاقی کابینہ نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی پالیسی میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 سال پرانی امپورٹڈ گاڑیوں پر پابندی ختم ہونے سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
یاد رہے کہ یہ تبدیلیاں اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کی 9 دسمبر 2025 کی سفارشات پر مبنی ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پرسنل بیگج اسکیم کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اب اوورسیز پاکستانی اس اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیاں پاکستان نہیں لا سکتے۔ یہ فیصلہ امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے ذریعے نافذ کیا گیا۔
واضح رہے کہ پرسنل بیگیج اسکیم کے تحت اوورسیز پاکستانی اپنی واپسی پر گاڑی کو ذاتی سامان کے طور پر پاکستان لا سکتے تھے تاہم اب وہ آپشن دستیاب نہیں رہا۔
اب صرف 2 اسکیمیں دستیاب ہیں۔ گفٹ اسکیم اور ٹرانسفر آف ریزیڈینس اسکیم۔ ان اسکیموں کے تحت استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی جا سکتی ہیں لیکن نئی ان اسکیموں کی شرائط کو سخت کر دیا گیا ہے۔
ٹرانسفر آف ریزیڈینس اسکیم کے تحت اب گاڑی صرف اسی ملک سے درآمد کی جا سکتی ہے جہاں اوورسیز پاکستانی رہائش پذیر ہے۔ تیسرے ملک سے درآمد کی اجازت نہیں۔ یہ شرط اسکیم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے متعارف کی گئی ہے۔ جبکہ پہلے اوورسیز پاکستانی خود چاہے کسی بھی ملک میں مقیم ہوں وہ بآسانی چین، جاپان اور دیگر ممالک سے گاڑیاں بھجوا سکتے تھے۔
واضح رہے کہ اوورسیز پاکستانی کی بیرون ملک قیام کی کم از کم مدت بھی 850 دن کر دی گئی ہے۔ یہ شرط ٹرانسفر آف ریزیڈینس اسکیم کے لیے لازمی ہے۔
گفٹ اسکیم کی پرانی شرائط میں اوورسیز پاکستانی اپنے رشتے داروں کو استعمال شدہ گاڑی بطور تحفہ بھیج سکتے تھے اور کوئی خاص انتظار کا وقت یا فروخت کی پابندی نہیں تھی۔ اب نئی تبدیلی یہ آئی ہے کہ پچھلی درآمد یا گفٹ سے اگلی کے درمیان 850 دن کا وقفہ لازمی ہے۔ پہلے یہ مدت 700 دن تھی۔
یاد رہے کہ یہ وقفہ گڈز ڈیکلریشن کی تاریخ سے شمار ہو گا۔
واضح رہے کہ دونوں اسکیموں کے تحت درآمد کی گئی گاڑیوں پر ایک سال کی ملکیت ٹرانسفر کی پابندی ہے۔ یعنی درآمد کی تاریخ سے ایک سال تک گاڑی فروخت یا منتقل نہیں کی جا سکتی۔ یہ پابندی فوری ری سیل کو روکنے کے لیے ہے۔
گاڑیوں کی عمر کی حد 3 سال (کاروں کے لیے) اور 5 سال (دیگر وہیکلز کے لیے) برقرار ہے۔
مزید پڑھیے: نئی پالیسی کے تحت آنے والی امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتیں کیا ہوں گی؟
اس کے علاوہ دونوں اسکیموں کے تحت گاڑیوں کو کمرشل امپورٹ کی طرح سیفٹی اور انوائرنمینٹل اسٹینڈرڈز پورے کرنے ہوں گے۔ ان میں ایئر بیگز، اے بی ایس سسٹم (اینٹی لاک بریکنگ سسٹم)، ایمیشن کنٹرول، کریش ٹیسٹس اور دیگر فیچرز شامل ہیں۔ وزارت صنعت و پیداوار یا انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے نوٹیفائیڈ اسٹینڈرڈز پر عمل لازمی ہے۔
ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس کی رعایت جاری رہے گی۔ 1800 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 50 فیصد رعایت اور 1800 سے 2500 سی سی تک کی گاڑی پر 25 فیصد رعایت دستیاب ہے۔
نئی گاڑیاں ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کر کے آزادانہ طور پر درآمد کی جا سکتی ہیں۔ ڈیوٹی اور ٹیکس کی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں۔
غیر اہل افراد میں پاکستان سے رقم وصول کرنے والے طلبا، غیر کماؤ خاندانی افراد اور پچھلے 2 سال میں گاڑی درآمد یا گفٹ کرنے والے شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: گاڑیوں کی ڈیلیوری میں تاخیر کا سبب کیا ہے؟ لکی موٹر کارپوریشن نے بتادیا
یہ تبدیلیاں اسکیموں کے غلط استعمال کو روکنے، روڈ سیفٹی بہتر بنانے، ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور فارن ایکسچینج مسائل حل کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ وزارت کامرس متعلقہ ایس آر او کو وزارت قانون کو ویٹنگ کے لیے بھیجے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوورسیز پاکستانی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے گاڑی درآمد پالیسی پرسنل بیگیج اسکیم ٹرانسفر آف ریزیڈینس اسکیم گاڑی گفٹ اسکیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانی پرسنل بیگیج اسکیم ٹرانسفر آف ریزیڈینس اسکیم ٹرانسفر آف ریزیڈینس اسکیم اوورسیز پاکستانی استعمال شدہ گاڑی اسکیموں کے کی جا سکتی گاڑیوں کی گاڑیوں پر درآمد کی اسکیم کے کے تحت کی گئی رہے کہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔