گل پلازہ آتشزدگی، دھویں میں پھنسی خاتون کی دل دہلا دینے والی ویڈیو سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کے روز کی ایک اور ویڈیو منظرِ عام پر آگئی ہے، جس نے حادثے کی ہولناکی کو مزید واضح کر دیا ہے۔
موبائل فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گل پلازہ کے اندر شدید دھواں پھیلا ہوا ہے جبکہ ایک خاتون دھویں میں پھنس کر خوفزدہ حالت میں مدد کے لیے پکارتی رہیں۔
ویڈیو میں خاتون کی آواز سنائی دیتی ہے کہ “بھائی کہاں سے نکلنا ہے؟ کہاں جانا ہے؟
سانحہ گل پلازہ، مسجد میں رکھے قرآن پاک معجزانہ طور پر بالکل محفوظ رہے
سانحہ گل پلازہ، انسانی جانیں راکھ کا ڈھیر
فوٹیج کے مطابق ایک شخص خاتون کو محفوظ راستہ دکھانے کی کوشش کرتا رہا اور کہتا ہے آپ ادھر نہیں جائیں، تاہم دھوئیں کی شدت کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔
منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں گل پلازہ کے اندر ہر طرف دھواں ہی دھواں نظر آ رہا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل گل پلازہ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔