چین کے تاجکستان میں قائم سفارت خانے نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر حالیہ جھڑپ کے بعد سیکیورٹی صورتحال انتہائی سنگین اور پیچیدہ ہو چکی ہے۔

سفارت خانے نے چینی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں کو جلد از جلد چھوڑ دیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اور تاجکستان کے سرحدی علاقوں میں مقیم یا کام کرنے والے چینی شہری اور کمپنیاں سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھیں، احتیاطی تدابیر کو مزید مضبوط بنائیں اور منظم انداز میں ان علاقوں سے انخلا کریں۔

یہ بھی پڑھیے: کابل کے چینی ریسٹورنٹ میں دھماکا، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ حالات چینی شہریوں اور کاروباری مفادات کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ یہ انتباہ تاجکستان کی اسٹیٹ کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ اتوار کے روز افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک دہشت گرد گروہ سے وابستہ چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں سرحدی علاقوں میں چینی شہریوں کی سلامتی سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 26 نومبر 2025 کو تاجکستان کے صوبہ ختلان کے سرحدی قصبے شمسی الدین شاہین میں ایک مسلح حملے کے نتیجے میں 3 چینی شہری ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، چینی شہری سمیت 7 افراد ہلاک

اسی علاقے میں 30 نومبر کو ایک اور مسلح حملہ ہوا، جس میں بھی چینی شہری متاثر ہوئے، جس کے بعد بیجنگ کی جانب سے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ ان مسلسل واقعات کے بعد چین نے اپنے شہریوں اور اداروں کو محتاط رہنے اور خطرناک علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان چین دہشتگردی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان چین دہشتگردی چینی شہری کے بعد

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی