لوئر چترال: آبادی کا رخ کرنے والے نایاب برفانی چیتے کی پراسرار ہلاکت، انکوائری کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
لوئر چترال کی گرم چشمہ وادی میں نایاب برفانی چیتے کی ہلاکت نے عوامی سطح پر شدید تنقید کو جنم دیا ہے اور وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مقامی آبادی کے مطابق برفانی چیتا تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل تھونک گاؤں میں پہلی بار مقامی افراد کو نظر آیا تھا۔ اس کے بعد یہ انتہائی نایاب جانور مختلف مقامات پر گھومتا رہا اور وقتاً فوقتاً مختلف علاقوں میں دیکھا جاتا رہا۔
یہ بھی پڑھیے: چترال میں شکار اور جانوروں کے مناظر پر مبنی قدیم ترین چٹانی نقوش دریافت
مقامی رہائشیوں نے اس کی موجودگی سے متعلق معلومات سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیں۔ تاہم بالآخر یہ برفانی چیتا پیرابیگ بازار کے قریب واحت گاؤں میں مردہ حالت میں پایا گیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اطلاع کے باوجود وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ بروقت اقدامات کرنے میں ناکام رہا۔ ان کے مطابق برفانی چیتے کا قدرتی مسکن چترال گول نیشنل پارک کا علاقہ ہے اور سردیوں میں اس کا گرم چشمہ وادی کی جانب آنا معمول کی بات نہیں۔
ان کا خیال ہے کہ اس بار برفانی چیتا گرم چشمہ کے پہاڑی علاقوں میں تو گھومتا رہا، لیکن واپس اپنے اصل مسکن تک نہ پہنچ سکا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ بروقت مداخلت کرتا تو جانور کو اس کے قدرتی مسکن کی جانب منتقل کیا جا سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان: برفانی چیتے اور انسان کی لازوال دوستی کی سچی داستان
لاش کی برآمدگی کے بعد وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تاہم چیتے کو بروقت بچا نہ پانے پر سول سوسائٹی اور ماحولیاتی کارکنوں نے سخت تنقید کی ہے۔
موسمیاتی بحران، غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت، انسانی و مویشی تصادم کے نتیجے میں انتقامی ہلاکتیں اور مسکن کا ٹکڑوں میں تقسیم ہونا برفانی چیتے کی بقا کو درپیش سب سے بڑے خطرات ہیں، جن کے باعث اس کی قدرتی رہائش اور خوراک تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چترال،68 ہزار امریکی ڈالر میں لائسنس حاصل کرنیوالا روسی باشندہ کشمیری مارخور کا شکار کرنے میں کامیاب
برفانی چیتا ایشیا کے بلند پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور ایک نمایاں اور ماحولیاتی طور پر نہایت اہم نوع ہے۔ یہ چترال اور گلگت بلتستان کے علاوہ افغانستان، بھوٹان، چین، بھارت، قازقستان، کرغزستان، منگولیا، نیپال، روسی وفاق، تاجکستان اور ازبکستان سمیت مختلف پہاڑی خطّوں میں موجود ہے۔
بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظِ فطرت نے 2017 میں برفانی چیتے کو اپنی ریڈ لسٹ میں ‘خطرے سے دوچار’ قرار دیا تھا، اور ماہرین کے مطابق یہ جنگلی ماحول میں درمیانی مدت کے دوران معدومی کے شدید خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Snow Leopard in Chitral Wildlife برفانی چیتا چترال محکمہ وائلڈ لائف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چترال محکمہ وائلڈ لائف
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔