data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 26 ہوگئی ہے جب کہ 83 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

ریسکیو اہلکار جلی ہوئی عمارت کے بیشتر حصوں میں داخل ہوچکے ہیں جہاں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اور ملبہ ہٹانے کا کام مسلسل جاری ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق آتش زدگی کے بعد گل پلازہ کا ایک اور متاثرہ حصہ زمین بوس ہوگیا ہے، جب کہ آگ کے باعث ساتھ موجود عمارت بھی متاثر ہوئی ہے اور اس کے پلرز ٹیڑھے ہوگئے ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوچکی ہے۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے دفتر میں لاپتہ افراد کی فہرست آویزاں کردی گئی ہے، تازہ اپ ڈیٹ کے مطابق 12 مزید افراد کے نام شامل ہونے کے بعد لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد 83 ہوگئی ہے، جب کہ 29 افراد کی موبائل لوکیشن گل پلازہ کے اطراف ظاہر ہورہی ہے۔

حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے 26 افراد میں سے 18 کی شناخت کرلی گئی ہے، جب کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو سول اسپتال میں اپنا ڈیٹا اور ڈی این اے نمونے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ شناخت کا عمل مکمل کیا جاسکے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق نے بتایا کہ سول اسپتال میں اب تک 20 لاشوں کے ڈی این اے سیمپل لیے جاچکے ہیں، جب کہ 48 خاندانوں نے بھی اپنے ڈی این اے نمونے جمع کرادیے ہیں۔ ڈی آئی جی اسد رضا کے مطابق ڈی این اے نمونے سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری جامعہ کراچی بھیجے جا رہے ہیں اور آئندہ تین روز تک کراس میچنگ کا عمل جاری رہے گا۔

دوسری جانب سندھ فرانزک لیب کو 6 لاشوں کے نمونے موصول ہوچکے ہیں، جب کہ ناقابل شناخت 6 لاشیں ایدھی سردخانے سہراب گوٹھ منتقل کردی گئی ہیں۔

ادھر گل پلازہ میں آتشزدگی کے اس واقعے سے متعلق قائم تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے، جس میں اب تک جمع کیے گئے شواہد اور ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈی این اے گل پلازہ افراد کی کے مطابق گئی ہے

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں