ڈھائی ہزار روپے کے تنازع پر قتل؛ سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزم کو بری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
ڈھائی ہزار روپے کے تنازع پر قتل؛ سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزم کو بری کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس)
ڈھائی ہزار روپے کے تنازع پر قتل کے کیس میں سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزم کو بری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ نے کپڑے کے بقایا 2500 روپے کے تنازع پر درج قتل کیس میں 15 سال بعد اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم نعیم ارشد عرف پپو کو قتل کے الزام سے بری کر دیا۔
عدالت نے نعیم ارشد کی فوری رہائی کا حکم بھی جاری کر دیا جب کہ لاہور ہائیکورٹ کا 29 نومبر 2017 کو دیا گیا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔ یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے 2015 میں نعیم ارشد کو 25 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
یہ فیصلہ جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے سنایا۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ شکایت کنندہ کی موقع پر موجودگی مشکوک ہے۔ واقعے کے وقت مکمل اندھیرا تھا ، روشنی کے کسی بھی ذریعے کا ذکر ریکارڈ پر موجود نہیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق وقوعہ بیان کردہ انداز میں پیش نہیں آیا بلکہ پورا معاملہ پراسرار نوعیت کا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں تفتیشی افسر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فائر نعیم ارشد نے نہیں بلکہ شہباز علی نے کیا تھا۔ شہباز علی سے برآمد ہونے والے پستول سے موقع واردات سے ملنے والا خول میچ ہوا تھا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ شہباز علی کو ٹرائل کورٹ پہلے ہی بری کر چکی ہے اور اس بریت کے خلاف نہ تو ریاست نے کوئی اپیل دائر کی اور نہ ہی شکایت کنندہ کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ گواہوں کو عدالت میں پیش نہ کرنا استغاثہ کے خلاف منفی تاثر پیدا کرتا ہے۔
مقدمے کے مطابق واقعہ 14 مارچ 2011 کو ساہیوال میں پیش آیا تھا، جہاں محمد انور کو کپڑے کی دکان پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ شکایت کنندہ کے مطابق وقوعے سے 2 روز قبل کپڑے کے بقایا 2500 روپے کے تنازع پر جھگڑا ہوا تھا، جسے بعد ازاں قتل کی وجہ قرار دیا گیا۔
ایک اور قتل کیس کا 15 سال بعد فیصلہ؛ تین ملزمان بری
سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کے ایک اور مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے تینوں ملزمان منیر احمد، ذوالفقار عرف کالا اور نصیر احمد کو قتل کے مقدمے سے بری کر دیا۔
عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ کا 9 جنوری 2017 کو دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد سنایا، جس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 10 صفحات پر مشتمل بریت کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق قتل کا واقعہ 17 دسمبر 2010 کو ضلع لودھراں میں پیش آیا تھا۔ مقدمے کے مطابق مقتول غلام سرور کو فائرنگ سے متعدد زخم آئے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ تینوں ملزمان موقع واردات پر موجود تھے اور انہوں نے مشترکہ نیت سے فائرنگ کی، جس کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور بعد ازاں ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ٹرائل کورٹ نے 24 ستمبر 2011 کو تینوں ملزمان کو قتل کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 2 ملزمان کو سزائے موت جب کہ ایک ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے 9 جنوری 2017 کو عمر قید والے ملزم کی سزا برقرار رکھی اور 2 ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا اور گواہوں کی موقع واردات پر موجودگی ثابت نہیں ہو سکی۔ عدالت کے مطابق گواہوں کے بیانات میں سنگین تضادات پائے گئے اور انہیں اتفاقی گواہ قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ فائرنگ کی جس تفصیل کا بیان دیا گیا وہ انسانی طور پر مشاہدہ کرنا ممکن نہیں تھی۔
عدالت عظمیٰ نے مزید قرار دیا کہ میڈیکل رپورٹ بھی عینی شہادت کی مکمل تائید نہیں کرتی تھی جب کہ اسلحہ اور خالی خولوں کی برآمدگی کو بھی ناقابلِ بھروسا قرار دیا گیا۔ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو بڑی کامیابی، مراکش کے بادشاہ نے بانی رکنیت قبول کرلی ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو بڑی کامیابی، مراکش کے بادشاہ نے بانی رکنیت قبول کرلی گرین لینڈ تنازع پر ٹیرف کی دھمکی: یورپی ممالک نے ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دے دیا اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لینے کا نوٹیفکیشن چیلنج سانحہ گل پلازہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، لاپتہ افراد کی فہرست 81 تک پہنچ گئی پارلیمنٹ ہا ئو س میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت کا سلسلہ جاری محمود اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا ساتھ دینے کا عندیہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ نے 15 سال بعد روپے کے تنازع پر ملزم کو
پڑھیں:
پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک تولہ سونا 4600 روپے اضافے کے بعد اب 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ10گرام سونے کی قیمت3944 روپےبڑھ کر 4 لاکھ8 ہزار 403 روپے ہوگئی ہے۔عالمی بازار میں سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس ہے۔