سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کیس کے تینوں ملزمان بری کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 15 سال بعد قتل کے ایک مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے منیر احمد، ذوالفقار عرف کالا اور نصیر احمد کو بری کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ کا 9 جنوری 2017 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ کے مطابق قتل کا یہ واقعہ 17 دسمبر 2010 کو ضلع لودھراں میں پیش آیا تھا۔ مقدمے کے مطابق مقتول غلام سرور کو فائرنگ سے متعدد زخم لگے اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔
استغاثہ کے مطابق تینوں ملزمان موقع واردات پر موجود تھے اور انہوں نے مشترکہ نیت کے تحت فائرنگ کی۔ واقعے کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور بعد ازاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلےٹرائل کورٹ نے 24 ستمبر 2011 کو تینوں ملزمان کو قتل کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 2 ملزمان کو سزائے موت جبکہ ایک ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے 9 جنوری 2017 کو عمر قید پانے والے ملزم کی سزا برقرار رکھی، جبکہ دو ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
سپریم کورٹ کا تفصیلی تجزیہسپریم کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا اور گواہوں کی موقع واردات پر موجودگی ثابت نہ ہو سکی۔ عدالت کے مطابق گواہوں کے بیانات میں سنگین تضادات پائے گئے اور انہیں اتفاقی گواہ قرار دیا گیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فائرنگ کی جو تفصیل بیان کی گئی وہ انسانی طور پر مشاہدہ کرنا ممکن نہیں تھی۔
عدالت نے مزید کہا کہ میڈیکل رپورٹ بھی عینی شہادت کی مکمل تائید نہیں کرتی جبکہ اسلحہ اور خالی خولوں کی برآمدگی بھی ناقابلِ بھروسہ ہے۔
شک کا فائدہ، ملزمان بریسپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانونی اصولوں کے مطابق ملزمان کو شک کا فائدہ دیا جانا چاہیے، اس لیے تینوں ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔
مقدمے کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 10 صفحات پر مشتمل بریت کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تینوں ملزمان سپریم کورٹ ملزمان کو کے مطابق کورٹ نے
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔