گل پلازہ کی چھت سے گاڑیاں اتارنے کا عمل شروع کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد ریسکیو اور کلیئرنس آپریشن کے تحت عمارت کی چھت سے گاڑیاں اتارنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر مزید ہیوی مشینری موقع پر پہنچا دی گئی، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے عملے نے کرینز کے ذریعے مرحلہ وار گاڑیوں کو نیچے اتارنا شروع کر دیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اب تک گل پلازہ کی چھت سے مجموعی طور پر 11 گاڑیاں اور ایک رکشہ محفوظ طریقے سے نیچے اتار لیے گئے ہیں۔
اتاری جانے والی گاڑیاں محفوظ حالت میں ان کے مالکان کے حوالے کر دی گئیں، جنہوں نے گاڑیاں خود چلا کر محفوظ مقام پر منتقل کیں۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ریسکیو اور کلیئرنس آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیںگل پلازہ آتشزدگی، ریسکیو آپریشن، میئر کراچی کی موقع پر نگرانی
گل پلازہ آتشزدگی، دھویں میں پھنسی خاتون کی دل دہلا دینے والی ویڈیو سامنے آگئی
سانحہ گل پلازہ، مسجد میں رکھے قرآن پاک معجزانہ طور پر بالکل محفوظ رہے
ان کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے آپریشن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے اور آپریشن مکمل ہونے تک ہیوی مشینری اور متعلقہ عملہ موقع پر موجود رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ چھت مکمل طور پر کلیئر ہونے کے بعد مزید تفتیش اور معائنہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب گل پلازہ میں موجود تین شورومز کے مالک تاجر عامر نے بتایا کہ عمارت میں تین شوروم تھے جو آتشزدگی کے نتیجے میں جل کر خاکستر ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ حیران کن طور پر ان کی دو گاڑیاں محفوظ حالت میں مل گئیں، جبکہ چھت پر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پارک تھیں۔ تاجر عامر کے مطابق ان کی دکان پر کام کرنے والے دو افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق ریسکیو اور کلیئرنس کا عمل مسلسل جاری ہے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گل پلازہ کے مطابق کر دیا
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔