گل پلازہ آتشزدگی، ریسکیو آپریشن، میئر کراچی کی موقع پر نگرانی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کی ٹیموں نے ریسکیو آپریشن میں تیزی کر دی ہے، ریسکیو اہلکار عمارت کی بیسمنٹ میں داخل ہو گئے ہیں جہاں ملبہ ہٹانے اور کلیئرنس کا عمل جاری ہے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے خود گل پلازہ پہنچ گئے۔ اس موقع پر انہوں نے ہدایت کی کہ ہر صورت میں ریسکیو آپریشن مکمل کیا جائے اور متاثرین کی تلاش کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔
میئر کراچی نے کہا کہ جب تک تمام لاپتہ افراد کا سراغ نہیں مل جاتا اور ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوتا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام محکمے الرٹ رہیں گے۔
مزید پڑھیںگل پلازہ آتشزدگی، دھویں میں پھنسی خاتون کی دل دہلا دینے والی ویڈیو سامنے آگئی
سانحہ گل پلازہ، مسجد میں رکھے قرآن پاک معجزانہ طور پر بالکل محفوظ رہے
سانحہ گل پلازہ؛ 6سوختہ لاشوں کے نمونے ڈی این اے کیلیے جامعہ کراچی لیب کو موصول
ان کا کہنا تھا کہ ضلع انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے۔
بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز کو ہدایت جاری کی کہ ریسکیو آپریشن کے لیے مشینری اور دستیاب وسائل میں فوری اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
ریسکیو ٹیمیں مسلسل ملبہ ہٹانے اور بیسمنٹ کی مکمل کلیئرنس کے عمل میں مصروف ہیں، جبکہ موقع پر سیکیورٹی اور ایمرجنسی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریسکیو آپریشن گل پلازہ
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔