مہنگی بجلی سے ٹیکسٹائل صنعت تباہی کے دہانے پر، 150 ملیں بند، حکومت کو چابیاں دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین کامران ارشد نے کہا ہے کہ مہنگی بجلی کے باعث ملک بھر میں 150 ٹیکسٹائل ملیں بند ہوچکی ہیں اور موجودہ حالات میں صنعت چلانا ممکن نہیں رہا، اس لیے اب صنعتوں کی چابیاں حکومت کے حوالے کرنے جا رہے ہیں۔
اپٹما ہیڈ آفس میں دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کامران ارشد نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر معاشی ایمرجنسی نافذ کرے اور بیوروکریسی میں گاڑیاں بانٹنے اور سڑکیں بنانے کے بجائے عوام کو روزگار فراہم کرنے پر توجہ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری تیزی سے زوال کا شکار ہے، دسمبر میں مجموعی برآمدات میں 19.
کامران ارشد نے واضح کیا کہ اگر یہی پالیسیاں برقرار رہیں تو صنعتیں مزید بند ہوں گی، ہم حکومت کو کہہ رہے ہیں کہ اب وہ خود صنعتیں چلا کر دکھائے۔
اس موقع پر چیئرمین اپٹما نارتھ زون اسد شفیع نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر بھی اس بات کو تسلیم کرچکے ہیں کہ 350 ارب روپے کی کراس سبسڈی واپس لی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معیشت کا پہیہ رک گیا تو انڈر پاس بنانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، دوسروں کی بجلی چوری کا بوجھ صنعتوں پر ڈالنا ناانصافی ہے اور پاور منسٹری کی تمام کیلکولیشنز غلط ہیں۔
اپٹما رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر صنعت کو قومی ترجیح نہ بنایا گیا تو آنے والے چھ ماہ میں برآمدات میں مزید نمایاں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کی تجارتی جنگ کا فائدہ پاکستان کو ہونا چاہیے تھا مگر غلط پالیسیوں کے باعث یہ موقع بھی ضائع ہوگیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔