گلی میں کھیلتی 3 سالہ بچی کے کانوں سے بالیاں نوچ کر ملزم فرار، فوٹیج سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
گلی میں کھیلتی تین سالہ معصوم بچی کے کانوں سے بالیاں نوچ کر ملزم فرار ہوگیا۔ واقعے کی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی کے تھانہ دھمیال کے علاقے اشرف کالونی میں سرقہ بالجبر کی ایک سفاکانہ واردات پیش آئی، جہاں گلی میں کھیلتی تین سالہ معصوم بچی کے کانوں سے سونے کی بالیاں نوچ کر ملزم فرار ہو گیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی، جس میں ملزم کو تیزی سے گلی میں گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
فوٹیج میں یہ بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم کے پیچھے پیچھے معصوم بچی درد سے روتے اور چلاتے ہوئے ایک ہاتھ کان پر رکھے بھاگتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کے والد پرویز کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
واقعے پر سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے سخت نوٹس لیا ہے اور ایس ایس پی آپریشن ملک طارق اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن کو ملزم کو ٹریس کرکے گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو ٹریس کرنے کے لیے پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔