ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ، وزیراعلیٰ مریم نواز سربراہ ہوں گی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور میں پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی سربراہی میں ستھرا پنجاب اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے لیے پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ نے ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 منظور کرلیا ہے۔
منظور شدہ بل کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی ایک بااختیار کارپوریٹ ادارہ ہوگی، جس کی چیئرمین وزیراعلیٰ پنجاب جبکہ وزیر بلدیات وائس چیئرمین ہوں گے۔ اتھارٹی میں مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور تمام ڈویژنل کمشنرز بطور ممبر شامل ہوں گے۔
بل کے تحت اتھارٹی ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق پالیسی سازی، قوانین اور معیار مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ لینڈفل سائٹس کی تعمیر کی بھی ذمہ دار ہوگی۔
ڈپٹی کمشنر کو ستھرا پنجاب ڈسٹرکٹ اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا جائے گا، جب کہ ڈسٹرکٹ اتھارٹی کو لائسنسنگ، رجسٹریشن اور فیس وصولی کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ویسٹ مینجمنٹ انسپکٹرز کی تقرری بھی ڈسٹرکٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں ہوگی۔
بل کے مطابق دیہی علاقوں میں صفائی اور حفظانِ صحت کی بہتری بھی ستھرا پنجاب اتھارٹی کی ذمہ داری ہوگی، جب کہ اتھارٹی اپنی خدمات کے عوض فیس مقرر کرنے کی مجاز ہوگی۔ مزید یہ کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی کے فیصلوں کو براہِ راست عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ستھرا پنجاب اتھارٹی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔