سندھ حکومت نے تعلیمی بورڈز میں نمبر سسٹم ختم کر کے گریڈنگ سسٹم نافذ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں پرانے نمبر سسٹم کو ختم کر کے نئے گریڈنگ سسٹم کی منظوری دے دی ہے۔ نئے نظام کے تحت 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ فیل شمار ہوں گے، جبکہ طلبہ کی کارکردگی کو اب بین الاقوامی معیار کے مطابق گریڈز میں تقسیم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:جیکب آباد: خاتون کا پولیس اہلکاروں پر پوتی سے زیادتی کا سنگین الزام، وزیر داخلہ سندھ کا نوٹس
سندھ حکومت نے تعلیمی بورڈز میں پرانے نمبر سسٹم کو ختم کر دیا، نئے گریڈنگ سسٹم کی منظوری دے دی گئی۔ وزیر جامعات سندھ اسماعیل راہو کے مطابق میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ فیل ہوں گے۔ نئی پالیسی کے تحت کارکردگی گریڈز میں تقسیم ہوگی: A++ 96-100 فیصد، A+ 91-95 فیصد، A 86-90 فیصد، B++ 81-85 فیصد، B+ 76-80 فیصد، B 71-75 فیصد، C+ 61-70 فیصد، C 51-60 فیصد، D 40-50 فیصد، اور U 40 فیصد سے کم۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نئے گریڈنگ سسٹم کا نفاذ مرحلہ وار ہوگا، 2026 میں 9ویں اور 11ویں کلاس کے پہلے سالانہ امتحانات سے شروع ہوگا، اور 2027 میں دہم و بارہویں کلاس کے امتحانات میں بھی نافذ کیا جائے گا۔
وزیر جامعات نے بتایا کہ ناکام طلبہ کو دوبارہ امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا اور مستقبل میں GPA سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں یکسانیت آئے۔
یہ اقدام تعلیمی معیار کو بین الاقوامی سطح کے مطابق لانے اور طلبہ کے لیے شفاف اور منصفانہ امتحانی نظام فراہم کرنے کی کوشش ہے، اور گل پلازہ کراچی جیسے حادثات کے تناظر میں بھی تعلیمی اصلاحات اور عوامی اعتماد کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ تعلیمی بورڈ سندھ گریڈنگ سسٹم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ تعلیمی بورڈ سندھ گریڈنگ سسٹم
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔