data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کی جانب سے جاری کی گئی تازہ کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جولائی سے ستمبر کے دوران ملک بھر میں کروڑوں ویڈیوز پلیٹ فارم سے ہٹا دی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں ٹک ٹاک نے پاکستان میں کمیونٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 2 کروڑ 81 لاکھ 98 ہزار 284 ویڈیوز حذف کیں، جو مواد کی نگرانی کے حوالے سے ایک نمایاں پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران پیشگی طور پر مواد کی نشاندہی اور حذف کرنے کی شرح انتہائی بلند رہی۔ پاکستان میں ٹک ٹاک نے تقریباً 99.

8 فیصد ویڈیوز کو صارفین کی شکایات سے قبل خودکار نظام کے ذریعے ہٹا دیا جب کہ ان میں سے 95.9 فیصد ویڈیوز اپ لوڈ ہونے کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر حذف کر دی گئیں، جس سے پلیٹ فارم کے تیز رفتار نگرانی نظام کی عکاسی ہوتی ہے۔

ٹک ٹاک انتظامیہ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی مواد کی نگرانی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، جس کے باعث انسانی ٹیمیں ان معاملات پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں جہاں فیصلوں کے لیے انسانی تجزیہ ناگزیر ہوتا ہے۔ ان میں اپیلوں کا جائزہ، ماہرین سے مشاورت اور بدلتے ہوئے ڈیجیٹل رجحانات پر فوری ردِعمل شامل ہے تاکہ صارفین کو محفوظ اور مثبت آن لائن ماحول فراہم کیا جا سکے۔

عالمی سطح پر اسی سہ ماہی میں ٹک ٹاک نے دنیا بھر سے 20 کروڑ 40 لاکھ سے زائد ویڈیوز حذف کیں، جو پلیٹ فارم پر اپ لوڈ ہونے والے مجموعی مواد کا تقریباً 0.7 فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد خودکار نظام کی نشاندہی پر ہٹائی گئی، تاہم مزید جانچ کے بعد لاکھوں ویڈیوز کو بحال بھی کیا گیا، جو نگرانی کے شفاف عمل کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ حذف شدہ مواد میں نمایاں حصہ ایسے موضوعات پر مشتمل تھا جو حساس یا بالغ نوعیت کے تھے اور پلیٹ فارم کی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ شائستگی، رازداری، سیکورٹی، غلط معلومات اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد بھی حذف کیے جانے کی بڑی وجوہات میں شامل رہیں، جس سے ٹک ٹاک کے شفاف اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے عزم کو تقویت ملتی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پلیٹ فارم ٹک ٹاک

پڑھیں:

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق

فائل فوٹو۔

ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔ 

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔ 

بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔

والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق