پاکستان: جولائی تا ستمبر 2025ء ٹک ٹاک سے 2 کروڑ سے زائد ویڈیوز حذف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کی جانب سے جاری کی گئی تازہ کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جولائی سے ستمبر کے دوران ملک بھر میں کروڑوں ویڈیوز پلیٹ فارم سے ہٹا دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں ٹک ٹاک نے پاکستان میں کمیونٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 2 کروڑ 81 لاکھ 98 ہزار 284 ویڈیوز حذف کیں، جو مواد کی نگرانی کے حوالے سے ایک نمایاں پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران پیشگی طور پر مواد کی نشاندہی اور حذف کرنے کی شرح انتہائی بلند رہی۔ پاکستان میں ٹک ٹاک نے تقریباً 99.
ٹک ٹاک انتظامیہ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی مواد کی نگرانی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، جس کے باعث انسانی ٹیمیں ان معاملات پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں جہاں فیصلوں کے لیے انسانی تجزیہ ناگزیر ہوتا ہے۔ ان میں اپیلوں کا جائزہ، ماہرین سے مشاورت اور بدلتے ہوئے ڈیجیٹل رجحانات پر فوری ردِعمل شامل ہے تاکہ صارفین کو محفوظ اور مثبت آن لائن ماحول فراہم کیا جا سکے۔
عالمی سطح پر اسی سہ ماہی میں ٹک ٹاک نے دنیا بھر سے 20 کروڑ 40 لاکھ سے زائد ویڈیوز حذف کیں، جو پلیٹ فارم پر اپ لوڈ ہونے والے مجموعی مواد کا تقریباً 0.7 فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد خودکار نظام کی نشاندہی پر ہٹائی گئی، تاہم مزید جانچ کے بعد لاکھوں ویڈیوز کو بحال بھی کیا گیا، جو نگرانی کے شفاف عمل کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ حذف شدہ مواد میں نمایاں حصہ ایسے موضوعات پر مشتمل تھا جو حساس یا بالغ نوعیت کے تھے اور پلیٹ فارم کی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ شائستگی، رازداری، سیکورٹی، غلط معلومات اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد بھی حذف کیے جانے کی بڑی وجوہات میں شامل رہیں، جس سے ٹک ٹاک کے شفاف اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے عزم کو تقویت ملتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
فائل فوٹو۔ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔
بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔
والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔