خیبر پختونخوا کے کوہاٹ میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پاکستان کی بڑی توانائی کمپنی، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں باراگزئی ایکس-01 (سلینٹ) تحقیقی کنویں میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ دریافت ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:او جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ میں اہم ہائیڈروکاربن ذخائر دریافت کرلیے
میڈیا رپورٹ کے مطابق او جی ڈی سی ایل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بتایا کہ ’نشپا ایکسپلوریشن لائسنس‘ کے تحت او جی ڈی سی ایل نے 65 فیصد حصہ دار کے طور پر، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) 30 فیصد اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) 5 فیصد کے ساتھ مشترکہ منصوبے میں Samana Suk اور Shinawari فارمیشنز میں تیل اور گیس دریافت کی۔
کمپنی کے مطابق’کیسڈ ہول ڈرل اسٹیم ٹیسٹ‘ کے دوران کنویں سے روزانہ 3,100 بیرل تیل اور 8.
او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ یہ نئی دریافت ملکی توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرے گی اور کمپنی کے ہائیڈروکاربن ذخائر کے ساتھ ساتھ ملک کے مجموعی توانائی کے ذخائر میں بھی اضافہ کرے گی۔
واضح رہے کہ پیر کو پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے بھی کوہاٹ کے Bilitang-1 تحقیقی کنویں سے گیس کی دریافت کا اعلان کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔