’راہگزر‘ ایپ لانچ، ملک بھر میں مسافروں کو بڑی سہولت مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پاکستان میں مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے پیٹرول پمپ تلاش کرنا اب آسان ہو گیا ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے ایک موبائل ایپلیکیشن ’راہگزر‘ متعارف کرائی ہے، جو ملک بھر کے رجسٹرڈ اور مجاز پیٹرول پمپس کی تفصیلات فراہم کرے گی۔
ایپ کا مقصد اور جدید ٹریک اینڈ ٹریس سسٹمپیٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ ایپ مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو قانونی طور پر منظور شدہ پیٹرول پمپس کی تصدیق شدہ معلومات فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے ایندھن کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے ایک جدید ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بھی متعارف کرایا ہے، جو پمپ اسٹیشنز اور ایندھن کی سپلائی چین کو ڈیجیٹل نیٹ ورک سے جوڑتا ہے۔
ایپ اور مانیٹرنگ سسٹم کی کامیاب عملدرآمد کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے ساتھ اشتراک کیا گیا ہے۔ سسٹم کے تحت فیول ٹینکرز، ٹرمینلز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس ایک مربوط ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے مربوط ہوں گے۔
پیٹرول پمپ پر جدید ٹیکنالوجیپیٹرول پمپس پر آٹومیٹک ٹینک گیجز اور ڈیجیٹل نوزلز لگائے جائیں گے تاکہ ایندھن کی مقدار اور معیار کی درست پیمائش اور مانیٹرنگ ممکن ہو سکے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے اعلان کیا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز (DGPC) ایک نیا آن لائن پورٹل متعارف کرائے گا تاکہ تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کے بلاکس کی بولی کے عمل میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
اس کے علاوہ ایندھن کی غیر قانونی فروخت اور نقل و حمل کے خلاف سخت اقدامات کے لیے پیٹرولیم ایکٹ، 1934 میں ترامیم کی گئی ہیں، جس میں بھاری جرمانے اور ضبطی کے احکامات شامل ہیں۔
متعدد حفاظتی اقداماتپیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ایکسپلوسوز ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بھی فعال کر دیا گیا ہے، جو دھماکہ خیز مواد کی سپلائی چین کو حقیقی وقت میں مانیٹر کرنے میں مدد دے گا، اور اس منصوبے کے 2 مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔