لاہور، سابق ایکسائز آفیسر رانا آفتاب احمد قتل، پولیس نے 4 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
چوہنگ کے علاقے میں سابق ایکسائز آفیسر رانا آفتاب احمد کو نامعلوم افراد کی اندھا دھند فائرنگ سے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے مقتول کی بیوی کی مدعیت میں 4 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں معروف ٹک ٹاکر کو شوہر نے قتل کردیا، وجہ کیا بنی؟
پولیس کے مطابق، مقتول رانا آفتاب احمد صبح دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلے تو گھر کے باہر پہلے سے ایک گاڑی موجود تھی۔ گاڑی میں 3 سے 4 نامعلوم افراد سوار تھے، جن میں سے ایک نے گاڑی سے اتر کر رانا آفتاب احمد پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
فائرنگ کے نتیجے میں رانا آفتاب احمد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ملزمان اس کے بعد نجی سوسائٹی کے گیٹ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:فتنہ، فساد اور بے گناہوں کا قتل دین اور انسانیت کے خلاف ہے، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز
پولیس نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد جمع کیے اور مقتول کی بیوی کی مدعیت میں 4 نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں تاکہ قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکسائز آفیسر چوہنگ رانا آفتاب قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکسائز ا فیسر چوہنگ رانا ا فتاب قتل رانا آفتاب احمد نامعلوم افراد کے خلاف
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔