خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما احمد کریم کنڈی نے وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت پر موجودہ سیاسی تناؤ کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کے حوالے سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہے اور نہ ہی اپنے اختیارات استعمال کر رہے ہیں جبکہ انہیں مسئلے کے حل کے لیے وفاق کے ساتھ بھی بیٹھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قافلے کو بلدیاتی نمائندوں نے روک لیا

احمد کریم کنڈی نے پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے موجودہ سیاسی صورتِ حال، صوبے کے امن و امان اور حکومتی امور پر بات کی۔

’سہیل آفریدی اپنے اختیارات استعمال نہیں کر رہے‘

احمد کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت امن و امان اور دیگر مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ میں سہیل آفریدی کو ناتجربہ کار نہیں کہوں گا اور ان کے ساتھ پوری کابینہ بھی موجود ہے جو ایسے لوگ ہیں جو معاملات کو بہتری کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

احمد کریم کنڈی نے کہا کہ جب تک مذاکرات نہیں ہوں گے مسائل کیسے حل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہیں اور ان کے پاس اختیارات ہیں لیکن وہ ان اختیارات کو استعمال نہیں کر رہے۔

مزید پڑھیے: دہشتگردی پر پی ٹی آئی کا خطرناک مؤقف، سہیل آفریدی کا اگلا ہدف کیا ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبہ ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور اگر سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

وفاق کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے تو دہشتگردی کیسے ختم ہوگی؟

احمد کریم کنڈی نے کہا کہ امن و امان صوبے اور وفاق دونوں کی ذمہ داری ہے اور سیاسی تناؤ کی فضا میں امن و امان کیسے بہتر ہو سکتا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ وفاق کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے تو مسائل کیسے حل ہوں گے؟

انہوں نے کہا کہ کوئی بیٹھنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے منعقدہ آل پارٹیز امن کانفرنس میں فیصلہ ہوا تھا کہ جو معاملات وفاق کے کنٹرول میں ہیں وہ وفاق کے سامنے اٹھائے جائیں گے اور وفاق کو تحریری طور پر بھی آگاہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کو افغانستان کا سفیر یا مستقل مندوب ہونا چاہیے، گورنر خیبرپختونخوا کی وزیراعلیٰ پر تنقید

احمد کریم کنڈی نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر صوبہ وفاق کے ساتھ نہیں بیٹھے گا تو معاملہ آگے کیسے بڑھے گا۔

’پی ٹی آئی کو ہمدردی کے ووٹ ملے، ترقیاتی ایجنڈا نہیں‘

احمد کریم کنڈی نے پی ٹی آئی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے ایجنڈے میں ترقی یا ترقیاتی کام شامل ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ہمدردی کا ووٹ ملا ہے۔ ’پی ٹی آئی ترقیاتی کاموں پر توجہ نہیں دے رہی، کوئی پوچھنے والا نہیں‘

انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی سیاسی جماعت زیر عتاب آتی ہے تو اس کے ساتھ ہمدردی بڑھ جاتی ہے اور پھر نہ اس کا احتساب ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے ترقی، گورننس یا کرپشن کے حوالے سے سوال کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اراکین کو بھی ہمدردی کے ووٹ ملے ہیں جو حقیقت میں کونسلر کی نشستیں جیتنے کے بھی قابل نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیے: سہیل آفریدی کی جانب سے افغانستان کی ترجمانی قابل مذمت اور شرمناک عمل ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تحریک کے نام پر پارٹی بانی کو پیچھے دھکیل رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جو تحریک چلائی جا رہی ہے اس سے عمران خان کو مزید اندھیرے میں دھکیلا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احمد کریم کنڈی پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں امن و امان کا مسئلہ دہشتگردی وزیر اعلیٰ خیبر پحتونخوا سہیل آفریدی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احمد کریم کنڈی پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں امن و امان کا مسئلہ دہشتگردی وزیر اعلی خیبر پحتونخوا سہیل ا فریدی احمد کریم کنڈی نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ وفاق کے ساتھ سہیل ا فریدی سہیل آفریدی پی ٹی آئی تھا کہ ہے اور

پڑھیں:

سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان

پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا