راولپنڈی: ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے لاکرز توڑ کر قیمتی سامان نذر آتش
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
چاندنی چوک اسٹیشن میں ریسکیو 1122 کے 100 سے زائد اہلکاروں کے لارکز توڑ کر ذاتی قیمتی سامان نذر آتش کردیا گیا۔
پنجاب حکومت نے چاندنی چوک اسٹیشن میں امدادی اہلکاروں کو لاکرز فراہم کیے تھے جس میں ریسکیو اہلکار اپنا قیمتی سامان رکھتے تھے لیکن انتظامیہ بغیر کوئی نوٹس دیے لاکرز توڑ کر ریسکیو اہلکاروں کا قیمتی سامان نذر آتش کردیا۔
متاثرہ اہلکاروں کے مطابق لاکرز ہولڈرز کو کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، افسران کے حکم پر تالے کاٹ کر سامان باہر پھینکا گیا۔
قیمتی کاغذات جلنے پر اہلکار شدید پریشان ہیں اور ان میں بے چینی و تشویش بڑھ گئی ہے، متاثرہ اہلکاروں نے ڈسٹرکٹ آفیسر صبغت اللہ پر اختیارات سے تجاوز کا الزام لگاتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ریسکیو 1122 ترجمان کا کہنا ہے کہ غیر ضروری سامان جلایا گیا، ذاتی اشیاء محفوظ ہیں، اطلاعات تھیں کہ اہلکاروں نے غیر قانونی اشیاء لاکرز میں رکھی ہیں، ترجمان نے اعتراف کیا کہ راولپنڈی ڈسٹرکٹ آفیسر نے پیشگی اطلاع دی تھی جو فورس تک نہیں پہنچ سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قیمتی سامان
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔