وزیراعظم ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کی سالانہ کانفرنس 2026 میں شرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگئے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف 19 سے 23 جنوری 2026 تک ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ کانفرنس 2026 میں شرکت کیلئے ڈایووس، سوئٹزرلینڈ کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ اقتصادی امور احد چیمہ، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینئر حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
22 جنوری کو کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
وزیرِ اعظم کی دورے کے دوران اہم سفارتی اور اقتصادی مصروفیات ہوں گی، شہباز شریف مختلف سربراہانِ مملکت و حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کے قائدین سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے، دورے کا ایک اہم حصہ بزنس راؤنڈ ٹیبل ہے، جس کا مشترکہ اہتمام پاکستان اور ورلڈ اکنامک فورم کر رہے ہیں۔
اس فورم میں عالمی سطح کی نمایاں کمپنیوں کے رہنما شریک ہوں گے جو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے یا اپنی موجودہ سرمایہ کاری کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ورلڈ اکنامک فورم
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔