جاپانی وزیرِ اعظم کا ایوانِ زیریں تحلیل کرنے اورقبل از وقت انتخابات کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
جاپانی وزیرِ اعظم کا ایوانِ زیریں تحلیل کرنے اورقبل از وقت انتخابات کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2026 سب نیوز
ٹوکیو ( سب نیوز)
جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ 23 جنوری کو ایوانِ زیریں تحلیل کر دیا جائے گا، 27 جنوری کو عام انتخابات کا باضابطہ اعلان جاری ہوگا جبکہ 8 فروری کو ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔
وزیرِ اعظم کے اس فیصلے پر حزبِ اختلاف کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ سانائے تاکائیچی قومی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے پارٹی مفادات کی خاطر سیاسی خلا پیدا کر رہی ہیں اور پارٹی مفادات کو عوامی مفادات سے بالاتر رکھا جا رہا ہے ۔
ادھر جاپان کی اپوزیشن جماعتوں، آئینی ڈیموکریٹک پارٹی اور کومیتو پارٹی نے بھی 19 جنوری کو ایک پریس کانفرنس کی، جس میں دونوں جماعتوں کے اشتراک سے قائم کی گئی نئی سیاسی جماعت “مرکزی اصلاحاتی اتحاد” کے منشور اور بنیادی پالیسیوں کا اعلان کیا گیا۔ نئی جماعت کے منشور میں واضح طور پر “تین غیر جوہری اصولوں” پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرراجہ ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر، نوٹیفکیشن سب نیوز پر امریکا کی وجہ سے اقوام متحدہ کے قیام کا بنیادی مقصد اب خطرے میں ہے، سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس چین کا کابل دھماکے میں چینی شہری کی ہلاکت پر فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہوگئے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو بڑی کامیابی، مراکش کے بادشاہ نے بانی رکنیت قبول کرلی گرین لینڈ تنازع پر ٹیرف کی دھمکی: یورپی ممالک نے ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دے دیا ایف ڈی ای انٹر اسکول ہاکی ٹورنامنٹ کا فائنل، ٹیم سی کی شاندار کامیابیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔