جاپانی وزیراعظم کا 23 جنوری کو ایوان زیریں تحلیل، 8 فروری کو انتخابات کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
ٹوکیو (ویب ڈیسک) جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 23 جنوری کو ایوان نمائندگان تحلیل کریں گی تاکہ 8 فروری کو قبل از وقت عام انتخابات کرائے جا سکیں۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جاپانی وزیراعظم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ رواں سال کے عام پارلیمانی اجلاس کے افتتاحی دن جمعہ کو 465 رکنی ایوانِ زیریں تحلیل کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ووٹنگ 8 فروری کو ہوگی جبکہ باضابطہ انتخابی مہم 27 جنوری سے شروع ہوگی، یہ انتخاب جو 21 اکتوبر کووزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی کے منصب سنبھالنے کے بعد پہلا انتخاب ہوگا، موجودہ ایوانِ زیریں کی مدت ختم ہونے میں دو سال سے زیادہ وقت باقی رہتے ہوئے منعقد کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے تاکائیچی نے اپنی حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور اتحادی جماعت جاپان انوویشن پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو ایوان زیریں تحلیل کرنے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا تھا۔
حکمران اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لئے جاپان کی آئینی جمہوری پارٹی اور کومے ئیتو پارٹی، جو طویل عرصے تک ایل ڈی پی کی اتحادی رہی ہے نے جمعرات کو سینٹرسٹ ریفارم الائنس بنانے پر اتفاق کیا، جو آنے والے انتخابات میں سب سے بڑی اپوزیشن قوت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔