بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کردیا گیا ہے: سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہےکہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا گیا ہے۔سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ گڈ گورننس اور میرٹ کے ذریعے سے ہی ہم بلوچستان کی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کر کے ان کو ریاست کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گورننس کی بہتری کے لیے ہم نے بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں دو نئے ڈویژن پشین اور کوہ سلیمان بنانے کی منظوری دے دی ہےساتھ ہی مزید ڈیویژن اور اضلاع بنانے پر بھی کام جاری ہے۔سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کردیا گیا ہے، مختلف لوگوں نے مسنگ پرسنز کے ایشو پر صرف سیاست چمکائی، ریاست کو مورد الزام ٹہرایا اور ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہم نے پہلی دفعہ اس کا حل نکالا ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس مشتبہ افراد سے تفتیش کے لیے قانونی فریم ورک موجود ہے اب لاپتا افراد کا الزام ریاست پر نہیں ڈالا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ہم سرکاری ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل شروع کرنے جا رہے ہیں، جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر اور سخت قانونی کاروائی ہو گی، اس عمل کا آغاز ڈیرہ بگٹی اور نصیرآباد سے ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کہ بلوچستان میں سرفراز بگٹی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔