آئینی عدالت میں اب تک صرف دو پٹیشنز آنا اعتماد کے فقدان کا ثبوت ہے، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نےعدالتوں میں انصاف کے فقدان اورعوامی حقوق پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہے،انہوں نے سوال اٹھایا کہ “ہماری جائز پٹیشنز نہیں سنی جاتیں، تو ہم کہاں جائیں؟ کیا ہمیں یو این یا انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس جانا پڑے گا؟”
اسد قیصر نےمیڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں عوام کے بنیادی اور جمہوری حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور عدالتوں پر اعتماد ختم ہونے سے ملک کا نظام چلنا ممکن نہیں،آئینی عدالت میں صرف دو پٹیشنز پیش ہونا اعتماد کے فقدان کا ثبوت ہےاتنی بڑی عدالتی عمارتیں ہوں مگر انصاف نہ ہو تو بے معنی ہیں۔
سابق اسپیکر نےعوام کو 8 فروری کو پرامن احتجاج کی کال دی اورکہا کہ یہ احتجاج بانی کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حق کے لیے ہے،دنیا کو دکھائیں گے کہ یہاں جمہوریت نہیں رہی، جمہوریت عوام کی آزادیوں سے مشروط ہوتی ہے۔
اسدقیصر نےوکلا برادری سے انصاف کے لیے کھڑے ہونےکی اپیل کرتے ہوئےکہا کہ عدالتوں پردباؤ ڈالا جا رہا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کی مثال سب کے سامنے ہے،ہم اپنے بنیادی حقوق کی جنگ انشاءاللہ جیتیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔
سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔
اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔
مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔