گل پلازا میں 1077 دکانوں کی اپروول موجود تھی: سابق صدر کراچی چیمبر
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس جاوید بلوانی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں 1077 دکانیں تھیں، جس کی اپروول موجود تھی۔
جیو نیوز کے مارننگ شو جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں ماضی میں بھی مارکیٹ جلنے کے واقعات ہوئے ہیں، ماضی میں بھی مارکیٹیں جلی ہیں، جانی نقصان اتنا نہیں ہوا۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ اب تک پیاروں کی اطلاع نہیں ملی۔ متاثرین نے ریسکیو ورکرز کی جانب سے تعاون نہ کرنے کی بھی شکایت کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سے کہا تھا کہ عمارت اور مال جلنے پر ہمیں افسوس نہیں، جانی نقصان پر شدید دکھ ہے، عمارتوں میں فائر الارم اور آگ بجھانے کے آلات ہوں تو جانی نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔
جاوید بلوانی کا کہنا تھا کہ انڈسٹریل ایریا میں آگ لگنے پر تین سے پانچ منٹ میں فائر ٹینڈرز پہنچ جاتے ہیں، فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔