حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن پی ٹی آئی نہیں: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی چار پانچ زبانیں بولتی ہے، اب ہم ان کی کون سی زبان سمجھیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ باہر بیٹھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے، باہر بیٹھے لوگ ان کی مرضی سے بول رہے ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر ساری دنیا متفق ہے، فوج بھیجنے کے معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت الگ اور اسمبلی میں بیٹھنے والے الگ زبان بول رہے ہیں۔ ہم ان کی کون سی زبان پر اعتبار کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بننے پر ویلکم کرتے ہیں، وہ ہمارا بھائی ہے، ہم ان کا بڑا احترام کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا محمود خان اچکزئی کی سیاست سے اختلاف ضرور ہو سکتا ہے لیکن میرا ان سے بڑا برادرانہ تعلق ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بتایا جائے کہ ایک اکثریتی پارٹی نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں نہیں بنایا؟ پی ٹی آئی بیک ٹریک اور دو نمبری کرنے کے لیے اپنی اسپیس رکھنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتا ہے لیکن انکی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خواجہ آصف نے کہا پی ٹی آئی نے کہا کہ ہے لیکن
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔