بہت سے ممالک جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کیلئے تیار ہیں: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بہت سے ممالک جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کیلئے تیار ہیں۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کے بعد جے ایف 17 تھنڈر کی بہت ڈیمانڈ ہے، جے ایف 17 کی اہمیت یورپین جہازوں سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نہیں بتا سکتا کہ کس مُلک کے ساتھ ہم معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے محمود خان اچکزئی اور نواز شریف کے دوستانہ تعلق کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ محمود خان اچکزئی کے نوازشریف اور میرے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اُن سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر اُن کی سیاست مسلمہ ہے۔
سینیٹ نے تولیدی صحت کو نصاب کا حصہ بنانے کا بل منظور کر لیا
قبل ازیں دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے دو نمبری نہیں پانچ نمبری کر رہے ہیں، سیاست کا محور شخصیت نہیں ملک ہونا چاہئے، دعا گو ہوں محمود اچکزئی کی تقرری سے ایوان کا تقدس برقرار رہے، سینیٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر کا تقرر جلد ہوجائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گفت و شنید نیک نیتی سے ہوجائے تو سارے مسئلے حل ہو جاتے ہیں، چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف جے ایف 17
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔