پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک  کے مابین  مجموعی طور پر 603 ملین ڈالر مالیت کے تین قرض معاہدوں پر دستخط کر دئیے گئے  ۔معاہدوں پراسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹررامی احمد اوراقتصادی امور ڈویژن کے سیکرٹر ی محمد حمیرکریم نے دستخط کئے۔معاہدوں کے تحت انتہائی غریب اور سیلاب سے متاثرہ گھرانوں کو غربت سے نکالنے کے  لئے ایک جامع تخفیفِ غربت پروگرام شروع کیا جائے گا۔اس پروگرام کی مجموعی لاگت 134.

2 ملین ڈالرہے،جس میں اسلامی ترقیاتی بینک 118.4 ملین ڈالر فراہم کرے گا،یہ منصوبہ ملک کے 25 اضلاع میں نافذکیا جائیگاجس سے ایک لاکھ 60 ہزار 866 گھرانے مستفید ہوں گے۔پروگرام کامقصد غریب خاندانوں کومعاشی خودمختاری فراہم کرنا اور انکے لئے مضبوط معاشی بنیاد استوار کرناہے،اس کے علاوہ اسلامی ترقیاتی بینک آزاد کشمیرمیں اسکول سے باہربچوں کیلئے ایک تعلیمی منصوبے کے تحت 10 ملین ڈالر فراہم کریگا،اس منصوبے کے ذریعے تقریبا 60 ہزاربچوں کودوبارہ اسکولوں میں داخل کیا جائے گا جبکہ 4 ہزار اساتذہ کو تربیت دی جائے گی۔اس موقع پراسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد نے کہا کہ بینک پاکستان کے ساتھ باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسلامی ترقیاتی بینک ملین ڈالر

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے