پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے مابین ایک کھرب سے زائد مالیت کے معاہدوں پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے مابین اسلام آباد میں 603 ملین ڈالر (168,497,918,100 روپے) مالیت کے تین قرض معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق معاہدے پر دستخط پاکستان کے وزیر ِاقتصادی امور احد خان چیمہ اور اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد کے درمیان ملاقات کے بعد کیے گئے۔
معاہدوں پر اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد اور اقتصادی امور ڈویژن کے سیکرٹری محمد حمیر کریم نے دستخط کیے۔
تقریب میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے تخفیف ِغربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
اسلامی ترقیاتی بینک ایم-6 سکھر تا حیدرآباد موٹروے منصوبے کے لیے 475 ملین ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرے گا۔ ایم-6 سکھر تا حیدرآباد موٹروے مجوزہ پشاور تا کراچی موٹروے کا اہم حصہ ہے۔
پاکستان کا اسلامی ترقیاتی بینک کے ساتھ انتہائی غریب اور سیلاب متاثرہ گھرانوں کو غربت سے نکالنے کا پروگرام شروع کرنے کا بھی معاہدہ ہوا۔ پروگرام کا مقصد انتہائی غریب خاندانوں کو نقد امداد پر انحصار سے نکال کر پائیدار روزگار، معاشی خودمختاری اور مضبوط معاشی بنیاد فراہم کرنا ہے۔
منصوبہ ملک کے 25 اضلاع میں نافذ کیا جائے گا، 160,866 گھرانے مستفید ہو سکیں گے۔ آزاد جموں و کشمیر میں اسکول سے باہر بچوں کے منصوبے کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک 10 ملین ڈالر فراہم کرے گا جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں تقریباً 60,000 بچوں کو دوبارہ اسکول داخل کیا جائے گا اور 4,000 اساتذہ کو تربیت دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلامی ترقیاتی بینک کے
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔