چینی ریسٹورنٹ پر حملہ افسوسناک، افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے: آصف زرداری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چینی ریسٹورنٹ پر ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کی۔
یہ بھی پڑھیے کابل کے چینی ریسٹورنٹ میں دھماکا، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی
صدر مملکت نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے باوجود ترقیاتی کاموں میں مصروف چینی شہریوں کے حوصلے اور جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی شہری شدید خطرات کے باوجود افغانستان کی ترقی کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت دوحہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری میں ناکام رہی ہے، خصوصاً اس عزم پر کہ افغان سرزمین دہشت گردی کی برآمد کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، چینی شہری سمیت 7 افراد ہلاک
صدر مملکت نے یاد دلایا کہ پاکستان متعدد بار اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی دہشتگرد تنظیم کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔