سیلز ٹیکس ادائیگی میں خردبرد اور قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کلیم اختر:سیلز ٹیکس کی ادائیگی میں خردبرد اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے سخت کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
پی آر اے کی انفورسمنٹ ٹیمیں متحرک رہیں اور مختلف شہروں میں 31 کاروباری مقامات کے سیلز ریکارڈ کی تفصیلی چھان بین کی گئی۔
کارروائیوں کے دوران 8 ریسٹورنٹس اور فوڈ پوائنٹس کے سیلز ریکارڈ ضبط کر لیے گئے جبکہ سیلز ٹیکس کی عدم ادائیگی اور بے ضابطگیوں پر 17 کاروباری یونٹس کو نوٹسز جاری کیے گئے۔ اسی طرح 6 مارکیز اور شادی ہالز کو ای الیکٹرانک انوائسنگ مینجمنٹ سسٹم (EIMS) کے استعمال نہ کرنے پر وارننگ نوٹسز دیے گئے۔
کابل: چینی ریسٹورنٹ میں دھماکہ،7 افراد ہلاک اور متعدد زخمی
پی آر اے کی جانب سے یہ کارروائیاں لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد اور ملتان میں کی گئیں۔ حکام کے مطابق نوٹسز کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے اور سیلز ریکارڈ میں خردبرد کے شواہد سامنے آنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ترجمان پنجاب ریونیو اتھارٹی کا کہنا ہے کہ عوام کی جانب سے ادا کیا جانے والا ٹیکس حکومت کی امانت ہے، جس کی بروقت اور شفاف ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی، جبکہ ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
رشتے کے تنازع پر 4افراد کو قتل کرنیوالے مجرم کی پھانسی کیخلاف اپیل خارج
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔