data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فضائی آلودگی مردوں میں پروسٹیٹ کینسر جیسے جان لیوا مرض کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے، شہروں میں مصروف سڑکوں اور صنعتی علاقوں کے قریب رہائش پذیر مرد دیگر علاقوں کے مقابلے میں اس مرض کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات رکھتے ہیں، برطانیہ میں کی جانے والی اس تحقیق میں دو لاکھ بیس ہزار سے زائد مردوں کے صحت کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق گاڑیوں کے دھوئیں اور صنعتی فضائی آلودگی پروسٹیٹ کینسر میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو ہر سال تقریباً 12 ہزار مردوں کی جان لے لیتا ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق زیادہ آلودہ ماحول میں رہنے والے مردوں میں اس مرض کے امکانات صاف ستھری فضا میں رہنے والے مردوں کے مقابلے میں تقریباً سات فیصد زیادہ تھے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ نائٹریٹ (NO₃)، جو زیادہ تر گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہوتا ہے، پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ کس طرح بیماری کے امکانات بڑھاتا ہے، مگر پہلے سے معلوم ہے کہ نائٹروجن کینسر کے خلیات کی افزائش کو فروغ دے سکتا ہے۔ محققین نے آلودگی کی سطح کا اندازہ افراد کے رہائشی علاقوں کے پوسٹل کوڈز کی مدد سے لگایا۔

تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی اور پروسٹیٹ کینسر کے درمیان ایک معمولی مگر واضح تعلق موجود ہے، اور سب سے زیادہ اثر نائٹریٹ کی موجودگی کا پایا گیا۔

محققین نے اس بات پر زور دیا کہ مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے نائٹریٹ کے اخراج کو محدود کرنا نہایت ضروری ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں زیادہ تر توجہ باریک زہریلے ذرات (PM2.

5) پر مرکوز تھی، جو انسانی بالوں سے کہیں زیادہ باریک ہوتے ہیں اور پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ باریک ذرات گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اور زرعی سرگرمیوں، اور گھریلو ایندھن کے جلنے سے پیدا ہوتے ہیں، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق ماحولیاتی آلودگی اور مردانہ صحت کے درمیان تعلق کو اجاگر کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ پائیدار اور صاف فضائی ماحول کے قیام کے اقدامات مردوں کی صحت کے تحفظ کے لیے لازمی ہیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پروسٹیٹ کینسر کے فضائی آلودگی کے خطرے کو صحت کے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی