چیٹ جی پی ٹی ڈیوائس متعارف کرانے کا منصوبہ، اس کی خصوصیات کیا ہوں گی؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی نے سنہ 2026 کے وسط میں چیٹ جی پی ٹی سے لیس اپنی پہلی ڈیوائس متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیںَ: اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات دکھانے کا اعلان
اگرچہ کمپنی نے ابھی تک اس ڈیوائس کے ڈیزائن یا خصوصیات کی تفصیلات جاری نہیں کیں لیکن اطلاعات کے مطابق یہ ایک جدید آڈیو گیجٹ ہوگا۔
اس ڈیوائس کا مقصد چیٹ جی پی ٹی کو عملی شکل دینا ہے تاکہ صارفین کو اسمارٹ کام انجام دینے اور فوری جوابات حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔
اوپن اے آئی کے چیف گلوبل افیئرز آفیسر کرس لہانے نے اس گیجٹ کی تصدیق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ایکسیئس ہاؤس میں کی۔
کرس لہانے کے مطابق اوپن اے آئی 2026 میں صرف ایک نہیں بلکہ متعدد ڈیوائسز متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سال کمپنی کی پیشکشوں میں ڈیوائسز ایک اہم حصہ ہوں گی تاہم ان کی فروخت کے حتمی شیڈول پر ابھی غور جاری ہے۔
مزید پڑھیے: ڈیجیٹل تاریخ میں نیا باب، پاکستان کا پہلا اردو چیٹ جی پی ٹی ’قلب‘ کا اجرا
یہ پیشرفت اوپن اے آئی کی سنہ 2024 میں ایپل کے سابق چیف ڈیزائنر جونی آئیو کے ساتھ شراکت داری اور سنہ 2025 میں ان کے اسٹارٹ اپ کے حصول کے بعد سامنے آئی ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ کمپنی اعلیٰ معیار کے ڈیزائنز پر کام کر رہی ہے۔
پہلے پراڈکٹ کا خفیہ کوڈ نام ’سوئیٹ پی‘ رکھا گیا ہے اور امکان ہے کہ یہ ایئر پوڈز کا مقابلہ کرنے والا ایک آڈیو ڈیوائس ہوگی۔ اس میں انڈے نما پتھر جیسا کیس اور گولی کی شکل کے ہیڈفونز شامل ہو سکتے ہیں جو کان کے پیچھے فٹ ہوں گے۔
مزید پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ متعارف، گوگل سے کتنا مختلف؟
اطلاعات کے مطابق اس ڈیوائس میں سام سنگ کا تیار کردہ 2 نینو میٹر چِپ استعمال کیا جائے گا جبکہ اس کی مینوفیکچرنگ فوکس کون کرے گی جو آئی فون اور گوگل پکسل اسمارٹ فونز بنانے والی کمپنی ہے۔ بعض لیکس میں قلم نما آڈیو گیجٹ جیسے متبادل ڈیزائنز کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اس ڈیوائس کی خصوصیات کیا ہوں گی؟واضح رہے کہ اوپن اے آئی کی یہ متوقع چیٹ جی پی ٹی ڈیوائس بنیادی طور پر ایک اسمارٹ آڈیو گیجٹ ہوگی جسے آواز کے ذریعے استعمال کیا جا سکے گا۔ اس کا مقصد صارفین کو اسکرین کے بغیر مصنوعی ذہانت سے براہ راست اور قدرتی انداز میں بات چیت کا تجربہ فراہم کرنا ہے۔ صارفین اس ڈیوائس کے ذریعے سوالات پوچھ سکیں گے، فوری معلومات حاصل کر سکیں گے، یاددہانیاں لگاسکیں گے اور روزمرہ کے مختلف اسمارٹ کام انجام دے سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: طبی مشوروں کے لیے ’چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ‘ متعارف کرانے کا اعلان
ماہرین کے مطابق یہ ڈیوائس عام اسمارٹ فون یا ایئر پوڈز سے مختلف ہوگی کیونکہ اس میں چیٹ جی پی ٹی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ یہ محض میوزک سننے کا آلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ وقت دستیاب اے آئی اسسٹنٹ ہوگا جو پیغامات، ای میلز اور دیگر ڈیجیٹل کاموں میں صارف کی مدد کر سکے گا جس سے تعلیمی، دفتری اور ذاتی استعمال میں نمایاں سہولت متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوپن اے آئی چیٹ جی پی ٹی ڈیوائس چیٹ جی پی ٹی ڈیوائس کیا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی متعارف کرانے کا اوپن اے آئی اس ڈیوائس کے مطابق
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔