کے پی کے کو 15 سال میں 800 ارب روپے دیے گئے، ترقی کا اثر نہیں نظر آیا: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پشاور: وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال اور ملکی امن و سلامتی کے معاملات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پرامن طرز زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔
خیبرپختونخوا سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے صوبے کے عوام کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو بے مثال قرار دیا اور کہا کہ حکومت صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہے اور اس کے لیے تمام متعلقہ ادارے اور عوام کو متحد ہونا ہوگا۔
شہباز شریف نے قومی سلامتی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ داخلی و خارجی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے، دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیے بغیر قوم چین سے نہیں بیٹھے گی، خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں۔
انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو قابل تحسین قرار دیا اور کہا کہ ریاست اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے، سوشل میڈیا پر جھوٹ اور پراپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کے اذہان میں زہر گھولا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے ملکی ترقی کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی ترقی تب ہی ملک کی ترقی کہلائے گی جب دیگر صوبے بھی ترقی کریں گے، بلوچستان کو 100 ارب روپے پنجاب کے حصے سے منتقل کیے گئے، اہم سڑکوں کی تعمیر کے لیے وفاقی فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں اور سولر ٹیوب ویلز کے منصوبے کے لیے 40 ارب روپے وفاق کی جانب سے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے، تاہم صوبے میں وہ ترقیاتی منظر نامہ نظر نہیں آتا جو دیگر صوبوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی، گزشتہ سال جنگ کے دوران بھارت کے سات جہاز مار گرائے گئے اور آج پاکستانی پاسپورٹ کو عالمی سطح پر عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، معاشی ترقی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان عالمی سطح پر مضبوط اور مستحکم ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے 40 لاکھ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی ہے اور افغان عبوری حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام پر رحم کرے اور نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچا کر مثبت سمت دے۔
خطاب کے دوران وزیراعظم نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو فون کر کے عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی، جس پر وزیراعلیٰ نے شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل دہشت گردی کے شہباز شریف ارب روپے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
سکردو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح ہے اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی اور بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔(جاری ہے)
جی بی ای-8 سکردو-2 میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار حاجی اکبر تابان کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر عوام کی محرومیاں ختم کرے گی اور گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ میں مؤثر آواز اٹھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور خطے میں بجلی کے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاکستان کے قیام کا جو مقصد تھا، اسے پورا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، خدمت اور عوامی ترقی کی سیاست ہے۔