بھارت: ریاستی سرپرستی میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں خطرناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
واشنگٹن ڈی سی میں قائم ادارے انڈیا ہیٹ لیب (IHL) نے اپنی سالانہ رپورٹ “Hate Speech Events in India: Report 2025” جاری کر دی ہے، جس میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف منظم اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی نفرت انگیز تقاریر میں تشویشناک اضافے کا انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران بھارت میں نفرت انگیز تقاریر کے 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ واقعات 21 ریاستوں، مقبوضہ جموں و کشمیر اور دہلی میں پیش آئے، جہاں اوسطاً روزانہ 4 نفرت انگیز تقاریر ہوئیں۔
مزید پڑھیں: بم کی اطلاع پر بھارتی طیارے کی لکھنؤ میں ہنگامی لینڈنگ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 98 فیصد واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ عیسائیوں کے خلاف واقعات میں 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نفرت انگیز زبان میں اقلیتوں کو کیڑے، دیمک، سانپ، پاگل کتے اور دہشتگرد جیسے الفاظ سے پکارا گیا، جبکہ 308 تقاریر کو براہِ راست تشدد پر اکسانے والی قرار دیا گیا۔
1,318 hate speech events in 2025, i.
— Alt News (@AltNews) January 17, 2026
انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق نفرت انگیز بیانیہ اب بھارتی سیاست کا مستقل ہتھیار بن چکا ہے، جسے انتخابی مہمات، مذہبی جلوسوں اور عوامی اجتماعات میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں اس عمل کو نسلی دہشتگردی قرار دیا گیا ہے، جہاں نفرت انگیز تقریر براہِ راست ہجوم کے تشدد، لنچنگ، جبری بے دخلیوں، مساجد و گرجا گھروں کی مسماری اور اقلیتوں پر حملوں کا باعث بنتی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت، منی پور میں اغوا اور اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون انتقال کر گئی
رپورٹ کے مطابق 88 فیصد نفرت انگیز واقعات بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاستوں میں پیش آئے، جن میں اتر پردیش، مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، راجستھان، دہلی، گجرات اور آسام سرِفہرست ہیں۔ متعدد واقعات کا براہِ راست تعلق ریاستی اور قومی انتخابات سے بھی جوڑا گیا ہے۔
انڈیا ہیٹ لیب نے بتایا کہ 160 سے زائد تنظیمیں، جن کا تعلق آر ایس ایس، بی جے پی نیٹ ورک سے ہے، ان سرگرمیوں میں ملوث پائی گئیں، جبکہ کئی حکومتی وزرا اور مذہبی رہنماؤں کی تقاریر کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ نفرت انگیز تقاریر کے نتیجے میں 2025 کے دوران درجنوں افراد لنچنگ کا شکار ہوئے، ہزاروں مسلمانوں کو بے دخل کیا گیا اور متعدد علاقوں میں اقلیتی آبادیوں کو مسمار کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ: بنگلہ دیش کا بھارت کے بجائے سری لنکا میں کھیلنے پر اصرار
عالمی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انڈیا ہیٹ لیب نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ امریکی ہولوکاسٹ میوزیم نے بھارت کو دنیا میں اجتماعی قتل کے خطرے کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر رکھا ہے، جبکہ جینوسائیڈ واچ نے بھارت کو نسل کشی کے 8ویں مرحلے میں قرار دیا ہے۔
राजस्थान, झालावाड़ के अकलेरा इलाके में एक दक्षिणपंथी ग्रुप ने कथित तौर पर बीफ़ (गोमांस) खाने का आरोप लगाकर एक बुज़ुर्ग आदमी को बेरहमी से पिटाई की। उन्होंने उस पर रोहिंग्या बांग्लादेशी होने का भी आरोप लगाया।#rajsthan #jhalawar #Islamophobia #MobLynching #muslim #BJPGovernment pic.twitter.com/n4G0rCWGdT
— Reporter Madam (@Reportermadam) January 2, 2026
رپورٹ کے اختتام پر خبردار کیا گیا ہے کہ اگر نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر قانون سازی، سوشل میڈیا نگرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے انتخابات کے دوران تشدد اور اقلیتوں کے خلاف کارروائیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو نہ صرف انسانی حقوق بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر بھارت عیسائی مسلمان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر بھارت نفرت انگیز تقاریر کیا گیا کے خلاف گیا ہے
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔