کراچی جیسے شہر میں آگ پر قابو نہ پانا سوالیہ نشان ہے، مفتی تقی عثمانی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
مفتی اعظم پاکستان نے کہا کہ حفاظتی انتظامات کو تیز اور مضبوط بنانا حکومت کا فرض ہے، جن لوگوں نے آخر کار انسانی جانیں بچانے کی خدمت انجام دیں وہ قابل ستائش ہیں، اللہ تعالی شہدا کو اعلی درجات اور آفت زدگان کو نعم البدل عطا فرمائیں آمین۔ اسلام ٹائمز۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ کراچی جیسے شہر میں آگ پر قابو نہ پانا سوالیہ نشان ہے، بروقت مدد کیوں نہیں پہنچ سکی، اس کی بے لاگ تحقیق ضروری ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گل پلازا میں آگ لگنے کا حادثہ قوم کے لیے انتہائی المناک اور شرمناک سانحہ ہے، چند گھنٹوں میں کتنی جانیں بے چارگی کا شکار ہو کر رخصت ہوگئیں، کتنے متوسط درجے کے تاجروں کا اربوں کا نقصان انہیں قلاش بنا گیا۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ حفاظتی انتظامات کو تیز اور مضبوط بنانا حکومت کا فرض ہے، جن لوگوں نے آخر کار انسانی جانیں بچانے کی خدمت انجام دیں وہ قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی شہدا کو اعلی درجات اور آفت زدگان کو نعم البدل عطا فرمائیں آمین۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔