ریلوے کی صوبائی سطح پر ڈیولوشن تاریخی اقدام ہے، حنیف عباسی کی وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ اجلاس میں گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی کی زیر صدارت حکومت بلوچستان اور پاکستان ریلویز کے مابین ایک اہم مشترکہ اجلاس منگل کو چیف منسٹر سیکریٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں صوبے میں ریلوے کے نظام کی بحالی، پیپلز ٹرین سروس کے آغاز اور مختلف مشترکہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر حنیف عباسی نے ریلوے میں اصلاحات کا خاکہ پیش کردیا
اجلاس کے دوران بلوچستان میں پیپلز ٹرین سروس سمیت متعدد جوائنٹ وینچر منصوبوں کے آغاز پر اصولی اتفاق کیا گیا۔
اس موقعے پر وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلویز کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی سطح پر ڈیولوشن کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے جو وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد اور اشتراک عمل کی مضبوط مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی ریلوے سروسز کے منصوبوں میں تینوں صوبوں نے دلچسپی ظاہر کی تاہم عملی قیادت بلوچستان نے سنبھالی جو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی مؤثر قیادت اور واضح وژن کا مظہر ہے۔
حنیف عباسی کی میر سرفراز بگٹی کی تعریفان کا کہنا تھا کہ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان میں ریلوے نظام جدید، مؤثر اور پائیدار حکمت عملی کے تحت ترقی کی جانب گامزن ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان ریلوے کی کایا پلٹنے کا فیصلہ، وزیراعظم کا منافع بخش ادارہ بنانے کی ہدایت
وفاقی وزیر ریلویز نے پیپلز ٹرین سروس کو پاکستان ریلویز اور حکومت بلوچستان کے باہمی اشتراک کا حسین امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ عوام کو سستی، محفوظ اور معیاری سفری سہولیات کی فراہمی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
پیپلز ٹرین منصوبے پر تیز پیشرفت کے خواہاں ہیں، سرفراز بگٹیاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان پیپلز ٹرین سروس منصوبے پر تیز رفتار اور عملی پیشرفت کی خواہاں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے ریلوے اسٹیشنز کی تعمیر اور موجودہ ریلوے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے حکومت بلوچستان تمام مطلوبہ وسائل فراہم کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ پیپلز ٹرین سروس منصوبے کے لیے ایک ارب 40 کروڑ روپے رواں ہفتے جاری کر دیے جائیں گے تاکہ منصوبے پر بلا تاخیر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سریاب تا کچلاک پیپلز ٹرین سروس کی کامیابی کے بعد اس سروس کا دائرہ مستونگ سے پشین اور دیگر علاقوں تک وسیع کیا جائے گا۔
فٹبال گراؤنڈ کا دورہ
بعد ازاں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی نے ریلویز فٹ بال گراؤنڈ کا دورہ بھی کیا جہاں کھیلوں کے فروغ اور پاکستان ریلویز کی اراضی پر مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیں: سرکاری نوکریاں آن لائن میرٹ پر تقسیم ہوں گی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا اعلان
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریلوے سسٹم کی بحالی اور عوام کو سستی، محفوظ اور بااعتماد سفری سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ قریبی اور مؤثر اشتراک جاری رکھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیپلز ٹرین ریلوے کی ڈیولوشن وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلز ٹرین وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی بلوچستان میر سرفراز بگٹی وفاقی وزیر ریلویز پیپلز ٹرین سروس حکومت بلوچستان پاکستان ریلویز حنیف عباسی وزیر اعلی کیا گیا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،