data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن کی قیادت سے متعلق جاری غیر یقینی صورتحال بالآخر ختم ہو گئی، جہاں مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ اور پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ سینیٹر راجہ ناصر عباس کو قائد حزبِ اختلاف مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن سیکریٹری سینیٹ حفیظ اللہ شیخ کی جانب سے جاری کر دیا گیا، جس کے بعد سینیٹ میں اپوزیشن کو نیا قائد مل گیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سینیٹر راجہ ناصر عباس کو اپوزیشن سینیٹ کے 32 میں سے 22 ارکان کی حمایت حاصل ہے جو واضح اکثریت بنتی ہے، سینیٹ کے قواعد کے مطابق قائد حزبِ اختلاف کو ڈکلیئر کرنے کا اختیار چیئرمین سینیٹ کے پاس ہوتا ہے اور وہ اسی اختیار کے تحت سینیٹر ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر قرار دے رہے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے وضاحت کی کہ قائد حزبِ اختلاف کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کی بنیادی وجہ عدالتی اور قانونی پروسیجر تھا، جس کے باعث معاملہ کچھ عرصہ سینیٹ سیکریٹریٹ میں زیرِ التوا رہا، جیسے ہی قانونی تقاضے مکمل ہوئے، کارروائی کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، اس عمل میں کسی قسم کی جانبداری شامل نہیں تھی بلکہ مکمل طور پر آئینی و قانونی فریم ورک کو مدنظر رکھا گیا۔

اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے بھی راجہ ناصر عباس کے تقرر کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے، قائد حزبِ اختلاف کی تقرری سے سینیٹ میں جمہوری عمل مضبوط ہوگا اور عوامی مسائل کو بہتر انداز میں اجاگر کیا جا سکے گا۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں میں اس فیصلے کو سینیٹ رولز کے مطابق ایک معمول کی پارلیمانی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ سینیٹ میں دیا گیا

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان