جعفریہ الائنس کی علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کو سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف منتخب ہونے پر مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اپنے بیان میں کہا کہ مرکزی ترجمان جعفریہ الائنس علامہ باقر حسین زیدی نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کردار پارلیمانی سیاست میں مثبت، اصولی اور جرات مندانہ روایات کو فروغ دے گا، جو جمہوریت کے استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جعفریہ الائنس پاکستان نے چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کو سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ مرکزی ترجمان جعفریہ الائنس پاکستان علامہ باقر حسین زیدی نے اپنے بیان میں کہا کہ اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حسن ہے اور یہی اختلاف قوم کو منزل کی جانب مسلسل سفر میں رواں رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ملتِ اسلامیہ اور پاکستان کے لیے ایک عظیم تحفہ ہیں، جنہوں نے ہمیشہ حق، عدل اور مظلوموں کی آواز بلند کی ہے۔۔
علامہ باقر حسین زیدی نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کردار پارلیمانی سیاست میں مثبت، اصولی اور جرات مندانہ روایات کو فروغ دے گا، جو جمہوریت کے استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اپنے بیان کے اختتام پر جعفریہ الائنس پاکستان کی جانب سے دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ بحق محمد و آلِ محمدؐ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا حامی و ناصر ہو اور انہیں ملت و وطن کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر عباس جعفری جعفریہ الائنس کہا کہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :