پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا
بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزویلا سے سبق سیکھنا ہوگا،تیراہ سے لوگوں کو نکالنا دہشت گردی نہیں
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، بے شک حکومت آپ کی ہو، جب بھی آپ عوام کی فلاح کی بات کریں گے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے برے کاموں میں کسی کا ساتھ نہ دو، ہم اس ایوان کو طاقت کا سر چشمہ بنانا چاہتے ہیں، کوشش کریں گے ایسی بات نہ کریں جو ماں بہن کے سامنے نہیں کرسکتے، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اچھے کاموں کے لئے ہمارے ووٹ بھی اپنے ووٹوں میں شامل کرلیں، آئیں داخلہ و خارجہ و معاشی پالیسیاں اس ایوان میں بنائیں، ہمیں وہ باتیں یہاں نہیں کرنی چاہئے جو اپنی ماں بہن کے سامنے نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ میں نے پی پی اور مسلم لیگ ن کا مشکل وقت میں ساتھ دیا، ہم نے اپنے ووٹ کا ایک روپیہ کبھی کسی جماعت سے نہیں لیا، میں نے اصول کی بنیاد پر جس کے ساتھ کھڑاہوا اس کے ساتھ کھڑا رہا ہوں، میں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں آپ کو بلا وجہ تنگ نہیں کروں گا، اسپیکر سردار ایاز صادق سے ملوں گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، ہم پندرہ افراد سامنے نہیں لاسکتے جو قوم کی رہنمائی کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ آسمان سے نہیں گریں گے ہم سب ملکر بیٹھیں، ہمیں وینزویلا سے سبق سیکھنا ہوگا، ہمارے ساتھ تو وینزویلا بہت پہلے ہوچکے دو ہیلی کاپٹر آئے اور ہماری خود مختاری کچل کر چلے گئے، آج بھی بعض طاقتیں بعض طاقتوں کو لڑانے کے لئے کوشاں ہیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج پاکستان مشکل میں ہے جبکہ باقی ممالک آگے نکل گئے، پاکستان کی فوج اور پولیس اتنی مضبوط ہے کہ کسی کا باپ کسی کو اغواء نہیں کرسکتا، ہمیں اپنے لوگوں پر اعتماد کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ اس وقت سخت مشکل میں ہے اور بعض طاقتیں اس خطے کو میدان جنگ بنانا چاہتی ہیں، جنگ شروع ہوئی تو ختم کرنا ہمارے بس میں نہیں ہوگا، ہم نے ہزاروں لوگوں کو دہشت گردی کے نام پر گھروں سے بے دخل کیا، اس سردی میں تیراہ سے لوگوں کو نکالنا دہشت گردی نہیں ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ میں عدم تشدد کا پرچار کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا، سابقہ فاٹا پاکستان کو ایک لاکھ سپاہی دیتا ہے۔ سندھیوں کے ساحل پر پہلا اختیار سندھیوں کا ہے، یہ بات بلوچ پشتونوں اور سرائیکیوں سے بھی کریں۔انہوں نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا، ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے پنجاب کا کسان آلو پھینک رہا ہے، کوئی پشتون یا بلوچ اسمگلنگ کرتا ہے تو گولی مار دو۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خیبر سے ہزاروں لوگ افغانستان جاتے تھے اور پیٹ پالتے تھے، آپ کا سامان افغانستان میں بکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ کو مضبوط
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش