گل پلازا آتشزدگی، ننھے مہمان کی آمد کی تیاریوں کیلئے آئی فیملی بھی لاپتہ، بھائی نے دل دہلا دینے والی تفصیل بتادی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
فوٹو: اے پی پی
کراچی کے گل پلازا میں لگنے والی آگ کے باعث لاپتہ ہونے والے عمر نبیل کے بھائی محمد راحیل نے جیو نیوز سے گفتگو میں دل دہلا دینے والی تفصیلات بیان کی ہیں۔
محمد راحیل نے بتایا کہ عمر نبیل فیملی کے ساتھ اپنے آنے والے بچے اور گھر کے لیے خریداری کرنے گل پلازہ گئے تھے، آگ لگنے کے وقت عمر نبیل کی اپنے ہم زلف سے فون پر بات ہوئی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ حکومت گل پلازا کے متاثرہ تاجروں کو متبادل جگہ فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو میں عمر نبیل نے بتایا کہ وہ فرسٹ فلور پر موجود ہیں، عمارت میں شدید دھواں بھر چکا ہے، کچھ نظر نہیں آ رہا، ہم برتنوں کی دکان کے قریب ہیں اور آکسیجن ختم ہو رہی ہے۔
محمد راحیل کے مطابق آخری کال رات 11 بج کر 7 منٹ پر کنیکٹ ہوئی، تاہم وہ کال وصول نہ ہو سکی، عمر نبیل اور ان کی فیملی کی آخری لوکیشن میز نائن فلور کی سامنے آئی۔
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازا پر صوبائی حکومت خود کو بری الذمہ نہیں سمجھتی ہے۔
اطلاع ملتے ہی اہل خانہ فوری طور پر گل پلازہ پہنچے، جہاں فائر بریگیڈ اور اسنارکل موجود تھی، محمد راحیل نے ریسکیو کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ فائر بریگیڈ کا عملہ غیر تربیت یافتہ محسوس ہوا اور لوگوں کے بروقت اخراج کا منصوبہ بنانے کے بجائے صرف آگ بجھانے میں مصروف رہا۔
انہوں نے کہاکہ گل پلازا کی تمام کھڑکیاں اے سی لگے ہونے کی وجہ سے اینٹوں سے بند تھیں، جس کے باعث دھواں خارج ہونے کا کوئی راستہ نہیں تھا، آگ صرف گراؤنڈ فلور تک محدود تھی اور اگر دیواریں اور کھڑکیاں توڑ دی جاتیں تو عمارت میں پھنسے افراد کو ریسکیو کیا جا سکتا تھا۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہید فائر فائٹر فرقان کے لواحقین کے لیے 1 کروڑ روپے کی مالی معاونت کا اعلان کردیا۔
محمد راحیل کے مطابق 45 سال کے عمر نبیل ٹیکسٹائل فیکٹری میں چیف فنانشل آفیسر تھے، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ 35 سال کی تھیں اور 9 ماہ کی حاملہ تھیں جبکہ ان کا 14 سالہ بیٹا علی بن عمر بھی ان کے ہمراہ موجود تھا۔
گل پلازا میں نئے آنے والے بچے کی تیاری کے لیے شاپنگ کرنے گئے عمر نبیل، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ اور 14 سالہ بیٹا علی کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
دوسری طرف گل پلازا کی چھت سے کرین کی مدد سے 7 گاڑیاں اتارلی گئیں ہیں جبکہ آتشزدگی سے تباہ ہونے والے پلازے میں ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
جیو نیوز کی ٹیم گل پلازہ کی متاثرہ عمارت کے اندر پہنچ گئی، عمارت کے اندر جہاں کبھی سجی سجائی دکانیں اور خریداروں کا ہجوم ہوتا تھا، وہاں اب دھویں کی سیاہی، سنسان راہداریاں اور ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محمد راحیل گل پلازا عمر نبیل نے والے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔