کے پی کےمیں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں،بیرسٹر گوہر خان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
(محمد اویس) تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ ملاقات کی کوشش کررہے تھے لیکن وہ مصروف ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان کی ملاقات کیلئے 3 گھنٹے تک انتظار کررہے تھے۔بانی سے ملاقاتیں ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔کے پی کےمیں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں۔کے پی کے حکومت کو بھی ایسے کام نہیں کرنے چاہیئے جن پر الزامات لگ جائیں۔
پی ایس ایل ؛ سیالکوٹ فرنچائز کے حتمی نام کیلئے 5 نام شارٹ لسٹ
بیرسٹر گوہر خان نے ڈی ایچ اے ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ بانی سے تین بہنوں نے ملنا ہے باقی لوگ یہاں اظہار یکجہتی کیلئے آتے ہیں۔کے پی کےمیں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہیئے۔کے پی کےحکومت کو بھی ایسے کام نہیں کرنے چاہیئے جن پر الزامات لگ جائیں۔جو الزامات لگاتے ہیں ان سے گزارش ہے ثبوت بھی لائیں۔انہوں نے کہا17 جنوری 2025 کو القادر میں سزا ہوئی ایک سال سے اپیل نہیں لگ رہی،ایک سال سے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ابھی تک ضمانت نہیں ملی۔عدلیہ سے درخواست ہے لوگوں کو انصاف انکی دہلیز پر ملنا چاہیے۔جب انصاف کے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو لوگ قانون ہاتھ میں لیتے ہیں۔انصاف کی عدم فراہمی پر لوگ لنچنگ اور وار لاڈ کی طرف جاتے ہیں۔آپ کب تک سپرمین اور ونڈر بوائز کے انتظار میں رہیں گے۔عدلیہ خدا کیلئے بانی پی ٹی آئی ہے کیسز سنیں اور انصاف کریں۔بشری بی بی پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں اسکو کیوں سزا دی گئی۔
چئیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ چئیرمین ہم بلکل واضع ہیں اگر کوئی بیک ڈور رابطہ ہوتا ہے تو ہم نہیں چھپائیں گے۔ہمارا فی الوقت اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے کوئی رابطہ نہیں۔علامہ راجہ ناصر اور محمود خان اچکزئی پر اب بڑی ذمہ داری ہے۔گریبانوں سے ہاتھ نکالنا ہوگا گریبانوں میں ہاتھ ڈال کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ہم سب کو اپنی انا ختم کرنی ہوگی۔ہم سمجھتے ہیں اچکزئی صاحب موثر کردار ادا کرینگے۔میں پارٹی کے اندرونی معاملات پر عوام میں بات نہیں کرتا۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کچھ اسطرح کی باتیں ہوئیں میں نے اجلاس کو موخر کردیا۔مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں بہتر ہے صلح صفائی ہو۔پی ٹی آئی پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔جب بھی ملک کی بات آئی ہم نے بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔
یرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈرز کے نوٹفکیشن کو اچھا اقدام سمجھتا ہوں۔یہ نوٹفکیشنز ایوان اور جمہوریت کیلئے اچھے ہیں۔دونوں اپوزیشن لیڈرز نے کل اپنی تقاریر میں اچھے پیغامات دئیے۔حکومت اگر ایک ہاتھ سے ہاتھ ملائے دوسرے ہاتھ سے مکا مارے گی تو حالات بہتر نہیں ہونگے۔ہم نے حکومت کو کہا دونوں ہاتھ ملائیں تو بات بنے گی۔حکومت مکے مارے گی تو لوگ پھر احتجاج ہی کرے گی۔8 فروری ہمارا سمبالک ڈے ہے اس دن ہمارا مینڈیٹ چوری ہوگیا تھا۔ہم 8 فروری کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے ہمارا احتجاج پرامن ہوگا۔ہماری اپیل ہے لوگ شٹر ڈاون کریں اور پہیہ جام کریں۔پی ٹی آئی کا وجود نظر آرہا ہے بانی کو کسی نشان کی ضرورت نہیں۔پی ٹی آئی کا کیس الیکشن کمیشن میں پڑا ہوا ہے ایک اسٹے کی وجہ سے التواء میں ہے۔میاں نواز شریف اپنی پارٹی کے سربراہ ہیں نوٹفکیشن پر اگر کوئی مشاورت ہوئی ہوگی تو یہ انکا معاملہ ہے۔میں اسپیکر کا مشکور ہوں انہوں نے یہ نوٹفکیشن کردیا۔میں نہیں سمجھتا اپوزیشن لیڈر کے نوٹفکیشن میں کسی اور کا کوئی کردار ہے۔
ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ ملاقات کی کوشش کررہے تھے لیکن وہ مصروف ہیں۔
لاہور میں 221 ٹریفک حادثات؛283 افراد زخمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: تحریک انصاف میڈیا گفتگو تحریک انصاف پر الزامات پی ٹی آئی گوہر خان
پڑھیں:
حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان(Aleema khan) نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔
راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔