(محمد اویس) تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ ملاقات کی کوشش کررہے تھے لیکن وہ مصروف ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان کی ملاقات کیلئے 3 گھنٹے تک انتظار کررہے تھے۔بانی سے ملاقاتیں ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔کے پی کےمیں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں۔کے پی  کے حکومت کو بھی ایسے کام نہیں کرنے چاہیئے جن پر الزامات لگ جائیں۔

پی ایس ایل ؛ سیالکوٹ فرنچائز کے حتمی نام کیلئے 5 نام شارٹ لسٹ

بیرسٹر گوہر خان نے ڈی ایچ اے ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ بانی سے تین بہنوں نے ملنا ہے باقی لوگ یہاں اظہار یکجہتی کیلئے آتے ہیں۔کے پی کےمیں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہیئے۔کے پی  کےحکومت کو بھی ایسے کام نہیں کرنے چاہیئے جن پر الزامات لگ جائیں۔جو الزامات لگاتے ہیں ان سے گزارش ہے ثبوت بھی لائیں۔انہوں نے کہا17 جنوری 2025 کو القادر میں سزا ہوئی ایک سال سے اپیل نہیں لگ رہی،ایک سال سے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ابھی تک ضمانت نہیں ملی۔عدلیہ سے درخواست ہے لوگوں کو انصاف انکی دہلیز پر ملنا چاہیے۔جب انصاف کے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو لوگ قانون ہاتھ میں لیتے ہیں۔انصاف کی عدم فراہمی پر لوگ لنچنگ اور وار لاڈ کی طرف جاتے ہیں۔آپ کب تک سپرمین اور ونڈر بوائز کے انتظار میں رہیں گے۔عدلیہ خدا کیلئے بانی پی ٹی آئی ہے کیسز سنیں اور انصاف کریں۔بشری بی بی پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں اسکو کیوں سزا دی گئی۔
  چئیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ چئیرمین ہم بلکل واضع ہیں اگر کوئی بیک ڈور رابطہ ہوتا ہے تو ہم نہیں چھپائیں گے۔ہمارا فی الوقت اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے کوئی رابطہ نہیں۔علامہ راجہ ناصر اور محمود خان اچکزئی پر اب بڑی ذمہ داری ہے۔گریبانوں سے ہاتھ نکالنا ہوگا گریبانوں میں ہاتھ ڈال کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ہم سب کو اپنی انا ختم کرنی ہوگی۔ہم سمجھتے ہیں اچکزئی صاحب موثر کردار ادا کرینگے۔میں پارٹی کے اندرونی معاملات پر عوام میں بات نہیں کرتا۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کچھ اسطرح کی باتیں ہوئیں میں نے اجلاس کو موخر کردیا۔مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں بہتر ہے صلح صفائی ہو۔پی ٹی آئی پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔جب بھی ملک کی بات آئی ہم نے بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔
یرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈرز کے نوٹفکیشن کو اچھا اقدام سمجھتا ہوں۔یہ نوٹفکیشنز ایوان اور جمہوریت کیلئے اچھے ہیں۔دونوں اپوزیشن لیڈرز نے کل اپنی تقاریر میں اچھے پیغامات دئیے۔حکومت اگر ایک ہاتھ سے ہاتھ ملائے دوسرے ہاتھ سے مکا مارے گی تو حالات بہتر نہیں ہونگے۔ہم نے حکومت کو کہا دونوں ہاتھ ملائیں تو بات بنے گی۔حکومت مکے مارے گی تو لوگ پھر احتجاج ہی کرے گی۔8 فروری ہمارا سمبالک ڈے ہے اس دن ہمارا مینڈیٹ چوری ہوگیا تھا۔ہم 8 فروری کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے ہمارا احتجاج پرامن ہوگا۔ہماری اپیل ہے لوگ شٹر ڈاون کریں اور پہیہ جام کریں۔پی ٹی آئی کا وجود نظر آرہا ہے بانی کو کسی نشان  کی ضرورت نہیں۔پی ٹی آئی کا کیس الیکشن کمیشن میں پڑا ہوا ہے ایک اسٹے کی وجہ سے التواء میں ہے۔میاں نواز شریف اپنی پارٹی کے سربراہ ہیں نوٹفکیشن پر اگر کوئی مشاورت ہوئی ہوگی تو یہ انکا معاملہ ہے۔میں اسپیکر کا مشکور ہوں انہوں نے یہ نوٹفکیشن کردیا۔میں نہیں سمجھتا اپوزیشن لیڈر کے نوٹفکیشن میں کسی اور کا کوئی کردار ہے۔
ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ ملاقات کی کوشش کررہے تھے لیکن وہ مصروف ہیں۔

لاہور میں 221 ٹریفک حادثات؛283 افراد زخمی 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: تحریک انصاف میڈیا گفتگو تحریک انصاف پر الزامات پی ٹی آئی گوہر خان

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف